Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
234 - 274
اللہ  عَزَّ      وَجَلَّ کا ایسا احسان ہے جہاں تمہارا وہم وگمان بھی نہیں پہنچ سکتا اور یہ تمام کی تمام ایک ہی شے سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ ہے حمد وشکر اور جب کوئی خصلت ایسی قدر وقیمت والی ہو اور اس میں یہ تمام فوائد ہوں تو غفلت کو پس پشت ڈال کرفورًا اسے اپنا لینا چاہیے۔یہ ایک قیمتی ہیرا اور نادر نکتہ ہے اوراللہ    عَزَّ   وَجَلَّ اپنے فضل ورحمت اور احسان سے توفیق عطا فرمائے۔
حمد وشکر میں فرق:
	عُلَمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نےحمدوشکرکےمابین فرق بیان کیا ہے۔بعض فرماتے ہیں: حمد تسبیح وتہلیل کی اقسام سے ہے تو یہ ظاہری کوششوں سے ہو گی جبکہ شکر صبروتفویض (سپردِالٰہی) کی اقسام سے ہے تو یہ باطنی کوششوں سے ہو گا۔ بعض علما فرماتے ہیں: تعریف کرنا حمد ہے اور سارے اعضاء کے ساتھ علانیہ وپوشیدہ خالِقِ کل کی اطاعت کرنا شکر ہے۔ 
	خلاصہ یہ ہے کہ شکر کہتے ہیں: احسان کرنے والے کی ایسی تعظیم کرنا کہ وہ تعظیم اس کی مخالفت ونافرمانی سے روک دے۔یہ اُسی وقت ہوگا جب محسن کے احسان کو یاد رکھا جائے اور شکر کی ادائیگی میں شکر کرنے والے کی حالت اچھی ہوتی ہے جبکہ ناشکری کرنے میں ناشکرے کی حالت بُری ہوتی ہے۔
کتنا شکرفرض ہے؟
نعمت کا کم ازکم حق یہ ہے کہ اس کے ساتھ نافرمانی کی طرف نہ بڑھا جائے، کتنا بُرا ہے وہ شخص جو انعام کرنے والے کی نعمت کو اسی کی نافرمانی کے لئے ہتھیار بنا لیتا ہے۔جب معاملہ ایسا ہے تو اپنی حقیقت میں بندے پر اتنا شکر فرض ہے کہ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کو یاد کرنے کے لحاظ سے اُس کی ایسی تعظیم ہو جوبندے اور نافرمانی کے مابین حائل ہو جائے ۔“ جب اس نے ایساکرلیا تو وہ شکر کی اصل کوپہنچ گیا۔پھر ان نعمتوں کے مقابلے میں عبادت