حضورنبی رحمت،شفیع امتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ نصیحت بنیادہے:اِنَّ لِلنِّعَمِ اَوَابِدَ کَاَوَابِدِ الْوَحْشِ فَقَیِّدُوْھَا بِالشُّکْرِیعنی نعمتیں بھی جنگلی جانوروں کی طرح ہوتی ہیں تو تم انہیں شکر (کی رسی)سے باندھ لو۔ (1)
نعمت میں اضافہ:
جہاں تک نعمت میں اضافہ و ترقی کی بات ہے تو جب شکر کے ساتھ نعمت کو قید کر لیا جائے گا تو اس کا پھل زیادہ ہو جائے گا جیسا کہ درج ذیل آیات ِ مبارکہ میں فرمایاہے:
(1)…
لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ(پ۱۳،ابراھیم:۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اگراحسان مانوگےتومیں تمہیں اور دوں گا۔
(2)…
وَ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًی(پ۲۶،محمد:۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اورجنہوں نےراہ پائیاللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمائی۔
(3)…
وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ وَالَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ(پ۲۱،العنکبوت:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جنھوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرورہم انھیں اپنےراستےدکھادیں گے۔
پھر یہ کہ سمجھ دار مالک جب دیکھتا ہے کہ غلام اس کی نعمت کا حق ادا کر رہا ہے تو وہ اس پراوربھی انعام کرتاہےاوراسے اس کا اہل سمجھتا ہےورنہ اُس سے یہ نعمت منقطع وختم کر دیتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…موسوعة ابن ابی الدنیا، الشکر لله،۱/ ۴۷۳،حدیث:۲۷بتغیر عن عمر بن عبد العزیز