Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
231 - 274
ساتویں گھاٹی:	             حمد وشکر کا بیان
شکر لازم ہونے کی دووجہیں:
	اللہ  عَزَّ وَجَلَّتمہیں اورہمیں توفیق دےماقبل گھاٹی کوعبورکرنےاورآفات سےسلامت عبادات کرکےمقصدمیں کامیابی کےبعدتم پرلازم ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اس عظیم نعمت اور کریم احسان پر اس کی حمد وشکر بجا لاؤ اور ایسا کرنا تم پر دو وجہ سےلازم ہے:(۱)…نعمت پرہمیشگی کےلئےاور(۲)…اس میں اضافہ وترقی کے لئے۔
نعمت کا دوام:
	شکرسےنعمت پرہمیشگی ملتی ہےکیونکہ شکرنعمتوں کی قیدہےجس سےان کودوام وہمیشگی ملتی ہےاوراسےترک کردینےسےنعمتیں زائل ہوجاتی ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ(پ۱۳،الرعد:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان:بےشکاللہکسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔
	ایک دوسری جگہ ارشادفرمایا:
فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللہِ فَاَذٰقَہَا اللہُ لِبَاسَ الْجُوۡعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا کَانُوۡا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾ (پ۱۴،النحل:۱۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان:تو وہ اللہکی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی تو اللہنے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا بدلہ ان کے کئے کا۔
	یوں ہی  ارشاد فرمایا:
مَا یَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِکُمْ اِنۡ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنۡتُمْ ؕ(پ۵،النساء:۱۴۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراللہتمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم حق مانو اور ایمان لاؤ۔