دیکھنے سے شرم کر بلکہ ہر حال میں تجھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل واحسان ہے لہٰذااس عبادت کے حصول پر تیرا کام اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں ایسی عاجزی وانکساری ہو کہ وہ تیری عبادت قبول فرما لے، کیا تونے اس کے خلیل حضرت سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی وہ بات نہیں سنی جو انہوں نے اپنے ربّ کے گھر کی تعمیر کے بعد کہی تھی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس فضل پر کیسے عاجزی وانکساری کرتے ہوئے اس کے قبول ہونے کی دعا کی تھی:
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ﴿۱۲۷﴾(پ۱،البقرة:۱۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اےرب ہمارےہم سے قبول فرما بے شک تو ہی ہے سنتا جانتا۔
اور جب اپنی دعا سے فارغ ہوئے تو عرض کی:
رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ﴿۴۰﴾(پ۱۳،ابراھیم:۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اےہمارےرب اورمیری دعا سن لے۔
اےنفس!پھر اگر اُس نےتیری اِس کھوٹی پونجی کو قبول فرما کر تجھ پر احسان کیا تو اُس نے اپنی نعمت کو مکمل کردیا اور احسانِ عظیم فرمایا۔یہ سعادت و دولت، عزت و رِفْعت، خِلْعَت و نعمت اور ذخیرہ و کرامت کتنی ہی اچھی ہے اور اگرتیری حالت اس کے برعکس ہو تو تیرے نقصان وخسارہ اور حرمان نصیبی پر افسوس۔
فوائد وثمرات:
پس اے بندے!بیان کردہ طریقے میں مشغول ہوجاؤ ،اگرتم اس پرہمیشگی واستقامت رکھو گے، عبادت سے فراغت کے وقت دل میں اس کی تکرار کروگے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّسے مدد مانگوگےتویہ طریقہ تمہیں مخلوق اورنفس کی طرف متوجہ ہونےسےپھیردےگا،تمہیں ریاکاری اورخودپسندی سےدورکردےگا،خالص اپنےلئےعبادات کرنےکی طرف لے