سکتاہےلہٰذاکم ہمت، کمزور ارادے اور گھٹیاافعال والامت بننا، کیا تو دیکھتا نہیں جب کبوتر بلندی پر اُڑنے والا ہو تو اس کی قدر وقیمت بڑھ جاتی ہے لہٰذاتو بھی اپنی ساری ہمت بلند پروازی میں لگادےاوراپنےدل کو اللہتعالیٰ کے لئے خالی کرلے کہ وہی ایک ایسا ہے جس کے قبضے میں سارا معاملہ ہے اورتو بے حیثیت شے کے پیچھے اپنی عبادت ضائع مت کر۔
عبادت میں نعمت واحسان:
اے بندے !یوں ہی جب تم اچھی طرح غور کروگے تو اس عبادت میں اپنے اوپر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتیں اوراس کےعظیم احسانات دیکھوگےکہ اسی نےتمہیں توفیق دی، عبادت کا سامان دیا اور رُکاوٹوں کو تم سے دور کیا حتّٰی کہ تم عبادت کے لئے فارغ ہو گئے، پھر اس نے توفیق وتائید سے عبادت کو تم پر آسان کر دیا اور اِس کے اچھے ہونے کوتمہارے دل میں ڈالایہاں تک کہ تم نے اس پر عمل کیا ۔ پھر یہ بھی دیکھو کہ اُس ربّ تعالیٰ نے اپنی عظمت و جلالت،تم سے اور تمہاری عبادت سے بے نیازی اور تم پر اپنی کثیرنعمتوں کے باوجود تمہارے لئے اس تھوڑےعمل پربڑی تعریف اور بڑا ثواب تیار کررکھا ہے جس کے تم مستحق نہیں۔ پھر اس پر وہ تمہیں شرفِ قبولیت عطا فرما تاہے اور اس کی بدولت تمہاری تعریف کرتااور تم سے محبت فرماتا ہے۔پھر یہ دیکھوکہ سب کچھ اسی کے عظیم فضل کی وجہ سے ہے کسی اور وجہ سے نہیں، ورنہ تمہارا کیا حق بنتا ہے اور تمہارے اس عیب دار حقیر عمل کی قدر وقیمت ہی کیا ہے؟
احسان کو یاد رکھو:
الغرض اپنےنفس سےکہو:اےنفس!اپنےرحیم وکریم اورپاک رب کےاس احسان کو یاد کر جو اس نے عبادت کو بجالانے میں تجھ پر کیا اور اپنے عمل کو خود پسندی کی نگاہ سے