Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
227 - 274
 طرف متوجہ نہیں ہو گے لہٰذابندوں کی تعریف وتوصیف اور تعظیم سے بے نیاز ہوجاؤ کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں  لہٰذا اپنی عبادت سے اُن کی طرف سے کسی شے کا ارادہ مت کرو اور جب تم دنیا کی ذلت وحقارت اور جلدی مٹ جانے کو دیکھو گے تواپنی عبادت سے رب عَزَّ  وَجَلَّ کے بجائے بندوں سے تعریف وتوصیف کا  قصد نہیں کرو گے اورتم  اپنے نفس سے کہو: اے نفس!تمام جہانوں کے رب کی تعریف، اس کا شکر اور اس کااعزاز بہتر ہے یاعاجزو جاہل مخلوق کی تعریف جو نہ تیرےعمل کی حقیقت کو جانتے ہیں نہ اس میں اُٹھائی جانے والی تکالیف کوپہچانتے ہیں اور وہ تیرےعمل اوراس کی مَشَقَّت کےمعاملے میں  تیرے حق کو نہیں سمجھتے بلکہ وہ تو بسا اوقات تجھ پر ایسے کو فضیلت دے دیتے ہیں جو تجھ سےہزار درجہ کم ہوتا ہے اور وہ ایسے ہیں کہ اگر تجھے ان کی شدید حاجت ہوتی ہے تو وہ تجھے بُھلادیتےہیں اوراگروہ ایسانہیں کرتےتب بھی ان کےہاتھ میں ہےہی کیا اوران کی قدرت کہاں تک ہے؟پھر یہ کہ وہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے قبضے میں ہیں وہ جب چاہے جہاں چاہے انہیں پھیر دے، لہٰذا اے میرےنفس!سمجھ جااورمخلوق کی خاطر اپنی قیمتی عبادت کو ضائع مت کر اور اس ذات کی تعریف وعطا سے محروم نہ ہونا جس کی تعریف سارا فخر اوراس کی عطا ہرذخیرہ ہے۔ کسی کہنے والے نے سچ کہا:
سَهْرُ الْعُيُوْنِ لِغَيْرِ وَجْھِكَ بَاطِلٌ		وَّبُكَاءُهُنَّ لِغيْرِ وَصْلِكَ ضَائِعٌ
	ترجمہ:تیری رضاکے بغیر آنکھوں کی شب بیداری باطل اورتیری ملاقات کے علاوہ ان کا رونا بیکارہے۔
	اوریوں کہو کہ اے نفس!ہمیشہ کی جنت بہتر ہے یا دنیا کاحرام، ناکارہ اور فانی سامان ؟ ابھی تو تجھے قدرت ہے کہ تو اپنی عبادت کے ذریعے اس ہمیشہ کی نعمت (جنت)کو حاصل کر