حضرت سیِّدُناخالدبن مَعْدَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتےہیں:حضرت سیِّدُنامُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہقرآنِ پاک کی تلاوت اتنی کثرت سےنہیں کرتےتھےجتنی کثرت سےیہ حدیث شریف بیان کیا کرتے تھے۔
نجات رحمت پر منحصرہے:
بیان کردہ حدیث پاک کا مضمون بہت عظیم ہے،خطرہ بڑاہے اور انجام درناک ہے جس سے ہوش اُڑ جاتے اور دل حیرت میں ڈوب جاتے ہیں، سینوں میں اِسے اٹھانے کی وُسْعَت نہیں اورنُفُوس اس کی دہشت سے گھبرا رہے ہیں پس رونے اورعاجزی کرنے والوں کے ساتھ تم بھی دن رات اپنے اُس مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں گریہ وزاری اورتضسرع وعاجزی کرتے رہوجو تمام جہانوں کا معبودہے کیونکہ اس معاملےسے نجات رحمتِ الٰہی سے ہی ممکن ہے اور اس سمندر سےسلامتی اُسی کی نظر وعنایت سے مل سکتی ہے لہٰذا غافلوں والی نیندسےبیدارہوجاؤ،اس معاملےکی حقیقت سمجھواوراس خوفناک گھاٹی میں اپنےنفس سے جہاد کرو۔ اُمید ہے اس طرح تم ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہونے سے بچ جاؤگے اورہرحال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسےمددکی التجاہےکیونکہ وہی سب سےبہترمددگارہےاوروہی بلندوبالا، سب سے بڑھ کر مہربان ہے اور نیکی کرنے کی قوت اور گناہ سے بچنے کی طاقت بلندوبرتراللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی توفیق سے ہے۔
نفس کو اِخلاص بھری نصیحتیں:
اس گھاٹی کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تم اچھی طرح غوروفکرکروگے تو اطاعتِ الٰہی کی قدر اور لوگوں کے عاجزوکمزور اور ناسمجھ ہونے کو دیکھ لو گے توپھر تم اپنے دل سےمخلوق کی