روکے گا، اپنے مسلمان بھائیوں کی مذمت کرکے خودکو صاف ستھرا مت بنانا، اپنے بھائیوں کوگِرا کر خود کو بلند مت کرنا ،اپنے عمل میں ریاکاری نہ کرنا کہ لوگوں میں پہچانےجاؤ،دنیا میں ایسےمشغول نہ ہوناکہ آخرت کامعاملہ بھول جاؤ،اگر تمہارے پاس دوشخص ہوں تو ایک سے سرگوشی مت کرنا، لوگوں میں بڑائی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنا کہ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں تم سے منہ موڑلیں گی،اپنی مجلس میں فحش گوئی نہ کرنا ورنہ لوگ تمہاری بداخلاقی کی وجہ سےتم سے گُریزکرنے لگیں گےاور اپنی زبان سے لوگوں کی عزت کا پردہ چاک مت کرنا ورنہ تمہیں جہنم کےکتےپھاڑڈالیں گےجس کابیان اس فرمانِ الٰہی میں ہے: وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًا ۙ﴿۲﴾ (پ۳۰،اَلنّٰزِعٰت:۲)(امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیاس کی تفسیرکرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ)”جہنم میں کتے ہڈیوں سے گوشت نوچ ڈالیں گے۔“
حضرت سیِّدُنامُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں کہ میں نےعرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان باتوں کی کون طاقت رکھ سکتاہے؟ارشادفرمایا:اےمُعَاذ! میں نےجو باتیں تم سے بیان کی ہیں یہ اُس کے لئےآسان ہیں جس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّآسان فرما دے اورتمہیں اِن میں سے یہ بات کافی ہے کہ ”تم لوگوں کے لئے وہ پسند کرو جو اپنے لئےپسند کرتے ہواور اُن کےلئے وہ ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو تو یوں تم سلامتی اور نجات پا جاؤگے(1)۔ “(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سیِّدُناامام جلالُ الدین سُیُوطی شافعی،حافظ ابْنِ جوزی،حافظ مُنذری صاحِبُ الترغیب والترہیب اورامام ذہبیعَلَیْہِمُ الرَّحْمَہنےاس حدیث کوموضوع قراردیاہےاورموضوع حدیث بغیروضع کےعوام وخواص دونوں میں بیان نہیں کرنی چاہیے۔(اللالئ المصنوعة،۲/۲۸۴۔الموضوعات،۳/۱۶۱۔ الترغیب والترھیب،۱/۵۱۔ تلخیص کتاب الموضاعات،ص:۳۱۰)
2…الترغیب والترھیب ،المقدمة،الترھیب من الریاء...الخ،۱/۴۸ ،۵۱،حدیث:۵۹