کے دل کی نگرانی کرنے والا ہوں۔اس نے اپنے اس عمل سے میرا ارادہ کیا نہ اِسے میرے لئے خالص کیا اوراس عمل سے اس کی جو نیت تھی میں اسے خوب جانتا ہوں، اس پر میری لعنت ہے، اس نے بندوں کو بھی دھوکا دیا اور تم کو بھی مگر یہ مجھے دھوکا نہیں دے سکتا کیونکہ میں غیبوں کا جاننے والا ہوں، دلوں کے خیالات سے واقف ہوں،کوئی چھپی چیز مجھ سے پوشیدہ نہیں اور کوئی بھی دور چیز مجھ سے دور نہیں، میرا علم حال کے متعلق بھی اُسی طرح ہے جیسے مستقبل کے متعلق ہے اور گزری ہوئی چیزوں کے ساتھ میرا علم اُسی طرح ہے جیسا کہ باقی وموجودہ چیزوں کےساتھ اورپہلے لوگوں کو بھی میرا علم ویسے ہی محیط ہے جیسا بعد والوں کو محیط ہے،میں ہر پوشیدہ در پوشیدہ کو خوب جانتا ہوں ۔پھر بھلا میرا بندہ مجھے دھوکا کیسے دے سکتا ہے؟ وہ تو صرف بے خبروں کودھوکا دیتا ہے جبکہ میں غیبوں کا جاننے والا ہوں، اس بندے پر میری لعنت ہے۔اب ساتوں فرشتے اورساتھ جانے والے تین ہزارملائکہ کہتے ہیں :اے ہمارے ربّ! اس پر تیری لعنت اور ہماری بھی لعنت۔پھر آسمان والے کہتے ہیں:اِس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت اور لعنت کرنے والوں کی لعنت۔
اس کے بعد حضرت سیِّدُنا مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت زیادہ روئے اور بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس سےخلاصی اورنجات کی کیا صورت ہے؟ارشادفرمایا:اےمُعاذ!یقین کےساتھ اپنےنبی کی پیروی کرو۔ میں نےکہا: آپ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں اور میں مُعاذ بن جَبَل، مجھے نجات اور خلاصی کس طرح نصیب گی؟ ارشاد فرمایا: اے مُعاذ! اگر تیرے عمل میں کوئی کوتاہی ہو تو لوگوں کی آبرو ریزی کرنے سے اپنی زبان کو روک لینابالخصوص قرآنِ کریم ہمیشہ پڑھنے اور اُس پر عمل کرنے والے اپنے حافظ بھائیوں سے اورتجھے اپنے نفس کے عیبوں کا علم لوگوں کی آبرو ریزی سے ضرور