اور فرشتے کسی بندے کا عمل لے کر اوپر جاتے ہیں،اُن میں کامل وضو،بہت سی نمازیں، روزے، حج اور عمرہ ہوتا ہے وہ چھٹے آسمان تک پہنچ جاتے ہیں، تو دروازے پر مقررنگہبان فرشتہ کہتا ہے: میں رحمت کافرشتہ ہوں،اِن اعمال کو عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو کیونکہ یہ آدمی کبھی کسی انسان پر رَحم نہیں کرتا تھا اور کسی بندے کومصیبت پہنچتی تھی تو خوش ہوتاتھا۔ میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ میں اُس کے اعمال اوپر نہ جانے دوں جو مجھے چھوڑ کر غیروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
یوں ہی فرشتے ایک بندے کا عمل لے کراوپرچڑھتے ہیں جس میں بہت سا صَدَقہ، نماز، روزہ ، جہاد اور پرہیز گاری ہوتی ہے، اُن کی آواز گرج کے جیسی اور چمک بجلی کی چمک جیسی ہوتی ہے، پھر جب وہ ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں تو اس آسمان پر مقرر فرشتہ کہتا ہے: میں تذکرہ وشہرت پر مقرر فرشتہ ہوں ،اِس عمل والے نے اپنے عمل سے مجلسوں میں تذکرہ، دوستوں میں بلندی اور بڑے لوگوں کے نزدیک جاہ پسندی کی نیت کی تھی، میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ میں اس کے عمل کو اُوپر نہ جانے دوں کہ یہ مجھے چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ہر وہ عمل جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے خالص نہ ہو وہ ریاکاری ہے اور رِیا کار کا عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ قبول نہیں فرماتا۔
اِسی طرحکِرَامًا کَاتِبِیْنبندے کے اَعمال یعنی نماز،روزہ، حج، زکوٰۃ، عمرہ، اچھااخلاق، خاموشی اور ذکرِ الٰہی لے کر اوپر جاتے ہیں اور ساتوں آسمانوں کے فرشتے اُن کے ساتھ ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ تک پہنچ کر اس کے سامنےکھڑے ہو جاتے ہیں اور بندے کے عمل کے نیک اور خالص ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: تم میرے بندے کے عمل کے محافظ ہوجبکہ میں اُس