Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
222 - 274
 ہیں، اُن میں صدقہ، روزہ اور بہت سی نیکیاں ہوتی ہیں، فرشتے ان کو بہت زیادہ اور پاکیزہ خیال کرتے ہیں، پھر جب وہ تیسرے آسمان تک پہنچتے ہیں تو دربان فرشتہ کہتا ہے: ٹھہر جاؤ اور اس عمل کو عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو، میں تکبُّر والوں  پر مقرر فرشتہ ہوں، میرے ربّعَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ میں کسی ایسےآدمی کا عمل اُوپر نہ جانے دوں جو مجھے چھوڑ کرغیر کی طرف متوجہ ہو یہ آدمی مجلسوں میں لوگوں پربڑائی مارتا ہو۔
	یوں ہی فرشتے بندے کے اعمال لے کر اُوپر جاتے ہیں،وہ اعمال ستاروں کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں اور اُن میں تسبیح کی آوازہوتی ہے، اُن میں نماز،روزہ اور حج وعمرہ ہوتا ہے، جب فرشتے ان اعمال کو لے کر چوتھے آسمان پر جاتے ہیں تو وہاں مقرر فِرِشتہ اُن سے کہتا ہے: ٹھہرجاؤ اور اس عمل کو عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارو، میں خود پسندی والوں کا فرشتہ ہوں، میرے ربّ عَزَّ  وَجَلَّنے مجھےحکم دیا ہےکہ میں ایسے آدمی کا عمل اوپر نہ جانے دوں جو مجھے چھوڑ کر غیر کی طرف متوجہ ہوتا ہے،اس آدمی نے جب بھی کوئی عمل کیا اُس میں خود پسند ی کا شکار ہوگیا ۔
	اسی طرح فرشتے کسی  بندے کا عمل لے کر اوپر جاتے ہیں وہ عمل اس طرح آراستہ ہوتے ہیں جیسے دلہن سُسرال جانے کے وقت سجتی ہے،ان اعمال میں جہادو حج  جیسے اعمال ہوتے ہیں۔اُن کی چمک سورج جیسی ہوتی ہے۔ جب فرشتے انہیں لے کر پانچویں آسمان تک پہنچتے ہیں تو دربان فرشتہ کہتا ہے: میں حسد کرنے والوں کا فرشتہ ہوں، یہ آدمی لوگوں پر اُن چیزوں میں حسد کرتا تھا جو اُن کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے فضل سے دی ہیں،یہ آدمی خدا تعالیٰ کی پسند پر ناراض تھا۔ میرے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ میں ایسے شخص کا عمل اُوپر نہ جانے دوں جو اسے چھوڑ کر دوسروں کی طرف متوجہ ہے۔