Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
220 - 274
(5)…حضرت سیِّدُناابویزیدبسطامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّا مِیفرماتےہیں:میں نے30سال تک عبادت کی تومیں نےدیکھاکہ کوئی مجھےکہہ رہاہے:اےابویزید!ربّ تعالیٰ کےخزانےتوعبادت سے بھرے ہوئے ہیں اگر تو اس کی بارگاہ تک پہنچنا چاہتا ہے تو مسکینی اور انکساری اختیار کر۔
(6)…حضرت سیِّدُنااستادابوالفضلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایاکرتےتھے:میں جانتاہوں کہ میری کوئی بھی عبادت مقبول نہیں کیونکہ عبادت میں مجھ سے کوتاہی ہوجاتی ہے اور نہ ہی عبادت کے سارے حقوق پورے ہو پاتے ہیں۔آپ سے کہا گیا: جب قبول نہیں ہوتی تو پھرآپ عبادت کیوں کرتےہیں؟ارشادفرمایا:اس اُمیدپرکہ کسی دناللہ عَزَّ   وَجَلَّمجھے درست کر دے تو نفس نیکی کا عادی بن چکا ہو اورپھر مجھے نفس کو عبادت کی طرف موڑنا نہ پڑے۔
	اِس راہ میں یہ اُن لوگوں کا حال ہے جو مجاہدات کرتےاور مشکلات کواختیار کرتے ہیں۔
ہوش اُڑانے والی  روایت:
	حضرت سیِّدُناابن مبارک حضرت سیِّدُناخالدبن معدانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاسے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن انہوں نے حضرت سیِّدُنامعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی: مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود پیارے آقا،مدینے والےمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےسنی ہو۔حضرت سیِّدُنامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے روتے ہوئے کہا:ہائےحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت اورملاقات!۔ پھر فرمانے لگے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضرتھاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسواری پر سوار ہوئے اور مجھے بھی اپنے پیچھے سوار کر لیا پھر ہم چلے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی نگاہ آسمان کی جانب اُٹھائی اور کہا: تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے جو اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے۔ اے معاذ! میں نےعرض کی: لَبَّیْکَ یَاسَیِّدَالْمُرْسَلِیْنیعنی اےتمام رسولوں کےسردار !میں حاضر ہوں۔