Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
22 - 274
بلکہ اکثرکوچھوڑکراورنفلی نمازروزےمیں لگ کرکسی بےمعنیٰ شےمیں پڑے ہوئےہو اورکیاتم اس سے نہیں ڈرتے کہ بعض اوقات تم  کسی ایسےگناہ پرڈٹ جاتے ہو جو جہنم میں لےجانےوالاہوتاہےجبکہ کھانا پینااورنیند وغیرہ مباح چیزیں  چھوڑکرقربِ الٰہی تلاش کرتے ہو یوں تم بے فائدہ چیز میں پڑ جاتے ہو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم کسی امید میں پڑے ہوتے ہو حالانکہ وہ امید محض گناہ ہوتی ہے اور تم اسے نیتِ خیر گمان کرتے ہو کیونکہ تم ان کے درمیان فرق کونہیں جانتے۔ بعض اوقات تم کسی گھبراہٹ اور ناراضی وغصہ میں مبتلاہوتے ہواور اسے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں رونا گڑگڑانا تصوُّر کرتے ہو اور یوں ہی کبھی خالص ریاکاری میں پڑےہوتےہواوراسےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد اور لوگوں کو بھلائی کی طرف بُلانا سمجھ لیتے ہو تو اس طرح تم گناہوں کو نیکیاں اورقابلِ گرفت کاموں کو ثوابِ عظیم شمار کرنےلگتےہوپس تم بڑے دھوکےاور بُری غفلت میں مبتلا ہو جاتے ہو۔خداعَزَّ  وَجَلَّ کی قسم! بغیر علم عمل کرنے والوں کے لیے یہ بہت بڑی مصیبت ہے۔
باطن کا ظاہرسے تعلق:
	یادرکھو!ظاہری اعمال کےساتھ باطنی صفات جیسےاخلاص و ریاکاری اورخود پسندی و احسان کےتذکرہ وغیرہ کابڑاگہراتعلُّق ہوتاہےجوظاہری اعمال کودرست یاخراب کردیتے ہیں توجوشخص ان باطنی صفات،ظاہری عبادات میں ان کے اثر،ان سےبچنےاوراعمال کو ان سےمحفوظ رکھنےکی کیفیت کونہیں جانتاتواس کاظاہری عمل سلامت نہیں رہتا،یوں اس کی ظاہری وباطنی عبادات فوت ہو جاتی ہیں اوراس کےپاس صرف میل کچیل اورمَشَقَّت ہی باقی بچتی ہےاوریہ کھلانقصان ہے۔حضورنبی پاک،صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:نَوْمٌ عَلٰی عِلْمٍ خَيْرٌمِّنْ صَلَاةٍ عَلٰى جَهْلٍیعنی علم کےساتھ سوناجہالت کے