تیری نماز کی ابتدا خالص میرے لئے نہ ہوتی تو آج میں تجھے اپنی بارگاہ سے دھتکار دیتا اور ایک ہی بار میں تجھے اپنے قرب سے دور کردیتا۔
سلف صالحین کے انداز:
اس معاملے کی باریکی اورسختی میں جب اہْلِ بصیرت نے غوروفکر کیا تو اپنے معاملے میں ڈر گئےحتّٰی کہ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے اس عمل کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے جو لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔چنانچہ
(1)…حضرت سیِّدَتُنارابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَافرماتی ہیں:میرا جو بھی عمل ظاہر ہو جائے میں اسے کسی گنتی میں نہیں لاتی۔
(2)… ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:اپنی نیکیاں ایسےچھپاؤجیسےاپنے گناہوں کو چھپاتے ہو۔
(3)…حضرت سیِّدَتُنارابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاسے پوچھا گیا: آپ کوکس چیز پر سب سے زیادہ اُمید ہے؟ فرمایا: اپنے عمل کو بڑا سمجھنے سے مایوس ہونے پر۔
(4)…ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنامحمد بن واسع اور حضرت سیِّدُنامالک بن دیناررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا اکٹھے ہوئے تو حضرت سیِّدُنامالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنے کہا:یا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت ہوگی یاپھرجہنم۔توحضرت سیِّدُنامحمد بن واسعرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:یاتواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت ہو گی یا جہنم۔ حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنے فرمایا: مجھے آپ جیسے اُستاذ کی شدید ضرورت ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنامحمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اعمال کی طرف نگاہ نہیں کی اگرچہ وہ موجود تھے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کی طرف نظر کی۔