Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
216 - 274
 وغیرہ سے روک کر اپنی جانوں کو تھکا دیتے ہیں ، انہیں تعداد اور کثرت نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور وہ اعمال کے مغزونچوڑ پر نظر نہیں رکھتے ، ایسے اخروٹوں کی کثرت کا کیا فائدہ جن میں گودا نہ ہو ؟اور ایسے مکانوں کو بلند کرنے میں کیا نفع جن کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں۔ انحقائق کواصحابِ کشف عُلَما ہی جان سکتے ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔
سالِم وسُتھرا عمل چاہیے:
(3)…اس گھاٹی کاتیسرا اہم معاملہ خطرے کا بڑا ہونا ہے، اس کے  کئی پہلو ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ تمہارا معبود ایسا بادشاہ ہے جس کی بادشاہت وعظمت کی کوئی انتہا نہیں اور اس کی تم پر لاتعداد وبے شمار نعمتیں ہیں اور دوسری طرف تمہارا بدن ہے جو کثیر عیبوں اور بہت سی آفات سے بھرا پڑا ہے جبکہ معاملہ خطرناک ہے کہ اگر نفس کی جلدی کی وجہ سے تم سے لغزش واقع ہوتو تمہیں عیب دار بدن اور برائی کی طرف مائل اور برائی کا حکم دینے والے نفس سے ایساعمل صادرکرنا پڑے گا جو صحیح سالم اور ستھرا ہو،ربُّ العٰلَمِیْن کے جلال وعظمت کے لائق  اور اس کی کثیر نعمتوں اور احسانات کا شکرانہ بن سکے اور اس کی بارگاہ میں پسند وقبولیت کے مقام میں واقع ہو۔ورنہ تم ایسے عظیم نفع سے محروم ہو جاؤ گے جس سے محرومی کی سکت کسی نفس کو نہیں بلکہ بعض اوقات اس معاملے میں تمہیں ایسی مصیبت پہنچتی ہے جسے تم برداشت نہیں کرسکتے۔ خدا کی قسم!یہ ایک بڑی پریشانی اور عظیم کیفیت ہے۔
حق ادا نہیں ہوسکتا:
	جہاں تک بادشاہِ حقیقی کے عظمت وجلال کی بات ہے تو ملائکہ مُقَرَّبِیْن دن رات اس کی عبادت پر کمربستہ ہیں، بعض جب سے پیدا ہوئے ہیں تب سے حالَتِ قیام میں، بعض رکوع میں،بعض سجدے میں اوربعض تسبیح وتہلیل میں مشغول ہیں، نہ قیام کرنے والے کا