Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
215 - 274
70سال کی عبادت سے بہتر:
	حضرت سیِّدُناوہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: تم سے پہلے ایک شخص تھا جس نے 70 سال تک روزہ رکھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت  کی ،وہ ایک ہفتے کے بعد روزہ افطار کرتا تھا، اس نے ربّ تعالیٰ سے ایک حاجت کا سوال کیا تو وہ پوری نہیں ہوئی، اس پر وہ اپنے نفس کو ملامت کرنےلگاکہ”یہ تیری ہی وجہ سے ہے اگر تیرے پاس کوئی بھلائی ہوتی تو تیری حاجت پوری کردی جاتی۔ “اللہ عَزَّ وَجَلَّنےایک فرشتہ بھیجاجس نےیہ پیغام دیا:’’اےابْنِ آدم! تیری یہ گھڑی جس میں تو نے اپنے نفس پر عتاب کیا تیری پچھلی ساری عبادت سے بہتر ہے۔‘‘
	عقلمندکواس کلام پرغورکرناچاہیےکہ کیا یہ نقصان نہیں کہ ایک شخص70سال عبادت کرتاہےاوردوسرالمحہ بھرغوروفکرکرتاہےتواس کالمحہ بھرغوروفکر70سال کی عبادت سے افضل ہو جاتا ہے، کیا یہ بڑا نقصان نہیں کہ تم 70سال کی عبادت سے بہتر عمل یعنی لمحہ بھر غوروفکر کرنے پر قادر ہو مگرپھر بھی اسے بلاوجہ چھوڑدو۔ خدا کی قسم! یہ واقعی بڑا نقصان ہے اوراس سے بے خبر رہنا اس سے بھی بڑا خسارہ ہے۔جس خصلت کی اتنی بڑی قیمت ہو اور ساتھ میں خطرات بھی موجود ہوں توپھر ضروری ہے کہ اس خصلت کو ختم کرنے والی  ہر چیز سے بچا جائے۔ ایسی باریکیوں پر عقلمندوں ہی کی نگاہ پڑتی ہے ،وہ پہلے اِن اَسرار کو پہچاننے کا اہتمام کرتے ہیں اور بعد میں اُس کی رِعایت وحفاظت کا خیال رکھتے ہیں، اُن کی نگاہ اعمال کی ظاہری کثرت پر نہیں ہوتی، وہ کہتے ہیں کہ ’’حیثیت تو خلاصہ ونچوڑکی ہے کثرت کی نہیں۔‘‘اور یہ بھی کہتے ہیں: ایک ہیرا ہزار کوڑیوں سے بہتر ہے۔
	اس کے برعکس اس معاملے میں کم علم لوگوں کی نگاہ قاصر ہے ،وہ ان معانی اور دلوں میں چھپے عُیُوب سے بے خبر ہیں اور رکوع وسجود میں مشغول ہو کر اور خود کو کھانے پینے