Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
214 - 274
دو حج ضائع کردیئے:
(2)…دوسرا اہم معاملہ نقصان کی سختی ہے کیونکہ ریاکاری اور خودپسندی ایسی آفت ہے جو ایک لمحہ کے لئے آتی ہے اور بعض اوقات 70سال کی عبادت تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیاپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک شخص کے مہمان بنے تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: کھانا اس تھال میں نہ  لانا جو میں  پہلےحج کے موقع پر لایا تھا بلکہ اُس تھال میں لاناجو میں دوسرے حج  کے موقع پر لایاتھا۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: اس بیچارے نے یہ کہہ کر اپنے دونوں حج ضائع کردیئے۔
	اس کے نقصان کا سخت ہونااس وجہ سے بھی ہے کہ تھوڑی سی عبادت جو ریاکاری اور خود پسندی کی آفت سے محفوظ ہو بارگاہِ الٰہی میں اس کی بے انتہا قدر وقیمت ہےاور بہت بڑی عبادت جس میں یہ آفات داخل ہو جائیں تو اس کی کوئی قدر وقیمت باقی نہیں رہتی سوائے اس کےکہ ربّ تعالیٰ اپنےفضل وکرم سےاس کاتدارُک فرمادے۔جیساکہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے کیا گیا عمل کبھی کم نہیں ہوتا اور مقبول عمل کیونکرکم ہو سکتا ہے۔‘‘
	اس کی وجہ یہ ہے کہ عمل جب مقبول ہو جائے تو اس کا ثواب، اس کی فضیلت اور بزرگی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں اتنی ہو جاتی ہے جس کی انتہانہیں۔
	حضرت سیِّدُناامام نخعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے پوچھا گیا:فلاں فلاں عمل کا کتنا ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر عمل قبول ہو جائے تو اس کا ثواب شمار نہیں کیا جا سکتا۔