Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
213 - 274
مانگی قیمت پر کپڑا لینے کے لئے تیار ہوگیا۔ آپ نے فرمایا:بات وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو، یہ میرا پیشہ ہے اور میں نے اس کپڑے کو تیار کرتے ہوئے اس کی خوبصورتی اور مضبوطی میں اپنی تمام تر کوشش صرف کردی حتّٰی کہ اس میں کوئی عیب نظر نہ آیا پھر جب میں نے اسے عیوب کو جاننے والے ماہر پر پیش کیا تو اس نے اِس میں وہ عیب بتائے جن سے میں غافل تھاتو پھرکل جب رَبُّ الْعٰلَمِیْن کے سامنے ہمارے اعمال پیش کیے جائیں گے توان میں کس قدر عیب اور کوتاہیاں ظاہرہوں گی جن سے آج ہم بے خبر ہیں۔
ثواب جاتا رہا:
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک رات میں سحر کے وقت سڑک کے کنارے واقع اپنے گھر کے ایک کمرے میں سورۂ طٰہٰ کی تلاوت کر رہا تھا، جب میں نے سورت ختم کی تو مجھے کچھ اونگھ آگئی، میں نے دیکھا کہ ایک شخص آسمان سے اُترا ، اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جو اس نے میرے سامنے پھیلا دیا، میں نے دیکھا تو اس میں سورۂ طٰہٰ لکھی ہوئی تھی اور ہر کلمے کے نیچے10نیکیاں لکھی تھیں مگر ایک کلمہ مٹا ہوا تھا اور اس کے نیچے  کچھ بھی نہیں لکھا تھا، میں نے کہا: خدا کی قسم! میں نے یہ کلمہ بھی تلاوت کیا تھا مگر مجھے نہ وہ کلمہ نظر آرہا ہے نہ  اس کا ثواب؟ اُس شخص نے کہا:تم نے سچ کہا یقیناً تم نے اس کی تلاوت کی تھی اور ہم نے اسے لکھا بھی تھا مگر ہم نے عرش کی جانب سے ایک پکارنے والے کی ندا سنی کہ’’اس کلمے کو مٹا دو اور اس کا ثواب ساقط کر دو‘‘چنانچہ ہم نے اسے مٹا دیا۔یہ سن کر میں خواب میں ہی رونے لگا اور کہا: تم نے ایسا کیوں کیا ؟اس نے کہا: سڑک سے ایک شخص گزرا تو تم نے اسے سنانے کے لئے یہ کلمہ اونچی آواز سے پڑھا تھاپس اِس کا ثواب جاتا رہا۔