Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
212 - 274
 مردہ دل  سےہی ہوسکتاہے۔ہماللہ عَزَّ وَجَلَّسےاس کےفضل وکرم کاواسطہ دےکر بہترین کفایت کا سوال کرتے ہیں۔
	اے بندے !اس گھاٹی میں خوابِ غفلت سے بیدار ہوجاؤ ورنہ خسارہ اُٹھاؤ گے، یہ گھاٹی سخت دشوار گزار، نہایت کڑوی اور زیادہ نقصان دہ ہے جو تمہیں اس راہ میں پیش آنی ہے کیونکہ پچھلی تمام گھاٹیوں کے نتیجے کی یہاں ہی انتہا ہوتی ہے۔اگر تم یہاں سے بچ گئے تو غنیمت اور فائدہ حاصل کروگے ورنہ تمام محنت رائگاں جائے گی، امیدیں خاک میں مل جائیں گی اور عمر ضائع ہوجائے گی۔ 
چھٹی گھاٹی کے تین اہم اُمور
	یہاں آکر اس گھاٹی میں تین امور جمع ہوگئے ہیں:(۱)…معاملہ انتہائی باریک ہے (۲)…نقصان سخت ہے  اور (۳)… خطرہ بڑا ہے ۔ 
(1)…معاملے کی باریکی یہ ہے کہ اعمال میں ریاکاری اور خودپسندی کی راہیں بہت باریک اور انتہائی پوشیدہ ہیں، ان پر دینی اُمور میں بصیرت رکھنے والا نہایت عقلمند، بیدار دل اور ہوشیار آدمی ہی باخبر ہو سکتا ہے، ان کو جانناجاہل ونادان اور خوابِ غفلت میں پڑے شخص کے بس کی بات نہیں۔
عبادت میں چھپی کوتاہیاں:
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناعطاسُلَمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے انتہائی مضبوطی اور خوبصورتی سے ایک کپڑا بُن کر تیار کیا ، پھر اسے اُٹھا کر بازار لے گئے اور ایک کپڑا فروش کو دکھایامگراس نے قیمت بہت تھوڑی لگائی اور کہا: اس میں تو یہ یہ عیب ہیں۔ آپ نے کپڑا لیااور بیٹھ کر بہت زیادہ روئے، دوکاندار کو اپنے کئے پر ندامت ہوئی، اُس نے  معذرت کی اور آپ کی منہ