وخشیت سے کانپتے بدنوں، پاک زبانوں، رونے والی آنکھوں، آباددلوں، پاک سینوں اور صاف ستھرے اعضا ء سے کس قدر خالص اور کھوٹ وملاوٹ سے پاک عبادت پیش ہو رہی ہوگی اور رہی تمہاری نماز تو اگرچہ تم نے اس کو اچھی طرح ادا کرنے میں اخلاص وپختگی کےساتھ اپنی طاقت بھر کوشش کی ہوگی لیکن پھر بھی اس شہنشاہِ اعظم کی بارگاہ میں پیش ہونے کے قابل کہاں ہے اور اُن عبادات کے مقابلے میں اِس کی کیا حیثیت ہے جو وہاں پیش ہورہی ہیں کیونکہ تم نے اسے غافل دل سے ادا کیا جس میں طرح طرح کے عُیوب شامل تھے، بدن گناہوں سے آلودہ و ناپاک تھا اور زبان فُضول اور گناہ بھری باتوں سے لتھڑی ہوئی تھی پھر ایسی نماز اس کی عالی شان بارگاہ میں پیش ہونے کے قابل کہاں تھی اوراِس میں کہاں یہ صلاحیت تھی کہ اِسے ربُّ الْعِزَّت کی بارگاہ میں نذر کیا جائے؟
سب سے بڑی خود پسندی:
اے غافل ونادان! غور کر وکیا تم نے کبھی اپنی کوئی نماز آسمان کی طرف بھیجنے میں ایسی کوشش کی جیسی تو امیروں کے گھر کھانا بھیجنے میں کرتا ہے؟حضرت سیِّدُناابوبکر وراق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقفرماتے ہیں: ”میں جب بھی نماز سے فارغ ہوتا ہوں تو اِس نماز پر اُس عورت سے زیادہ شرمندہ ہوتا ہوں جو بدکاری سے فارغ ہوکر شرمندہ ہو۔“پھردیکھو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے محض اپنے فضل و کرم سے ان دو رکعتوں کی قدر افزائی کی اور ان پر بہت بڑے ثواب کا وعدہ فرمایا حالانکہ تم اس کےبندے ہو، اس کا دیا ہوا کھاتے ہو اورتم نے یہ عمل بھی اسی کی توفیق اورمدد سے کیا ہے اس کے باوجود تم اِس عمل پر خود پسندی میں گرفتار ہو اور اپنے اوپر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احسان کو بھول رہے ہو۔خدا کی قسم! یہ تو سب سے بڑی خود پسندی ہے،اس کا صُدورکسی بے عقل جاہل ،ناسمجھ غافل اوربھلائی سے محروم