مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۲۳﴾(پ۶،المآئدة:۲۳) تمہیں ایمان ہے۔
(2)… وَاشْکُرُوۡا لِلہِ اِنۡ کُنۡتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوۡنَ﴿۱۷۲﴾(پ۲،البقرة:۱۷۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اوراللہکااحسان مانواگرتم اسی کو پوجتے ہو۔
(3)…
وَاصْبِرُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾(پ۱۰،الانفال:۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اورصبرکروبےشکاللہصبر والوں کے ساتھ ہے۔
تمہیں کیا ہے کہ تم نماز روزے کی طرف تو جاتےہو مگر ان فرائض کو چھوڑے بیٹھےہو حالانکہ دونوں کا حکم ایک ہی ربّعَزَّ وَجَلَّنے دیا ہے،بلکہ تم تو ان سے غافل ہو اوران میں سے کچھ بھی نہیں جانتے،کیاتمہیں ان لوگوں کی فتوٰی نویسی نےغافل کردیاجواپنے دنیاوی حصے پرفریفتہ ہیں(1)حتّٰی کہ انہوں نے نیکی کو برائی اور برائی کو نیکی بنا دیا اوران پاکیزہ اخلاقی علوم سےبےپروا ہوگئےجنہیںاللہ عَزَّوَجَلَّنےاپنی کتاب میں نور،حکمت اورہدایت کہاہےاوروہ اُس چیزکی طرف متوجہ ہیں جس سےحرام کمائیں اورذلیل دنیاجمع کرنےمیں لگےہوئے ہیں۔
علم کےبغیر عبادت کرنا:
اےبھلائی کےطلبگارو!کیا تمہیں کوئی خوف نہیں کہ تم ان واجبات میں سے بعض
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بد مذہب و دنیا کی طرف مائل بُرے علما و فقہامراد ہیں جن کا مقصود علم سے فقط دنیا کا حصول ہوتا ہے ورنہ عِلمِ ظاہر اور فقہی مسائل کی احتیاج تو ہرمسلمان کو زندگی کے ہر ہر لمحہ میں رہتی ہے اسے بتانے سمجھانے والے باعمل علما وفقہا تودین کے ستون کی حیثیت رکھتے ہیں خوف خدا اور خوف روز جزا ہی کی بناپر اپنی اور دوسروں کی اصلاح میں مشغول رہتے ہیں ان حضرات کے تو قرآن و حدیث میں فضائل بیان ہوئے ہیں جن کی مذمت بیان کی جاتی ہے وہ علمائے سوء ہوتے ہیں بد مذہب یا بے عمل ریا کار دنیادار علمااور وہ ضرور قابلِ مذمَّت ہیں۔(علمیہ)