Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
209 - 274
 عُلَمائے کرام، اَئِمَّہ عِظام،نیکوکار اورعبادات گزاربھی اپنے قابل فخرعظیم مراتب، پاکیزہ اجسام اور کثیر خالص عبادات کے باوجود اسی بارگاہ کے خُدّام ہیں۔
بندے کی حیثیت اور ربّ کی رحمت:
	دربارِالٰہی کے ادنیٰ خادم دنیا کے بادشاہ اور زبردست لوگ ہیں جو نہایت ذِلَّت سے اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں، اس کے سامنے جھک کراپنے چہرے خاک پر رکھتے ہیں،گریہ وزاری کے ساتھ اپنی حاجتیں اس کے سامنے پیش کرتے ہیں،سر سجدے میں رکھ کر اس کے معبود ہونے اور اپنے ناقص ہونے کا اعتراف کرتے ہیں حتّٰی کہ  وہ کبھی ان  پر رحمت کی ایک نظرفرمادیتاہے، اپنے فضل سے ان کی کوئی حاجت پوری کر دیتا ہے یا پھر اپنے بے پایاں کرم سے ان کی کوئی کوتاہی معاف فرمادیتا ہے۔پس غورکرو کہ ایسی عظمت و جلال اور بادشاہی وکمال  کے ہوتے ہوئے اُس نے تمہیں حقیروعیب زدہ ہونے کے باوجوداپنے دروازے پر حاضری کی اجازت دے رکھی ہے حالانکہ تمہاری حیثیت یہ ہے کہ اگر تم اپنے شہر کے سردار سے داخلے کی اجازت مانگو تو وہ اکثرتمہیں اجازت نہیں دیتا، اگر اپنے محلے کے امیرسے بات کرنا چاہو تواکثر وہ تم سے بات نہیں کرتا اور اگرتم اپنے بادشاہ کو سجدہ بھی کردو(1)تب بھی اکثروہ تمہاری طرف توجہ نہیں کرتا۔جبکہ اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ نے تمہیں اجازت دے رکھی ہے کہ تم اس کی عبادت کرو، اس کی ثنا کرو، اس سے بات کرو بلکہ کھل کر اپنی پریشانی اس پر پیش کرو،اپنی حاجتیں اس سے طلب کرواور اپنےسخت معاملات میں اُس کی مدد چاہو۔پھر یہ کہ وہ  تمہاری عیب زدہ دو رکعتوں سے بھی راضی ہوجاتا ہےبلکہ ان پراس قدر ثواب عطا فرماتا ہے کہ کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتامگرپھر بھی تم اپنی ان دورکعتوں 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بطورِ مثال ایسا کہا ہے ورنہ حکم یہ ہے کہ سجدہ تعظیمی حرام اور سجدہ عبادت کفر  و شرک ہے۔ (علمیہ)