اسےایک مُعَززمقام پرجگہ دےاوراس کی خدمت کورضاوخوشی کی نظرسےدیکھے حالانکہ اس میں کئی عُیُوب بھی ہوں تو کیا یہ نہیں کہا جائے گا کہ” اس حقیر انسان پر بادشاہ نے عظیم عنایت اوربہت بڑا احسان کیا ۔ “پھر اگر یہ حقیر اپنی ناکارہ خدمت کو لے کر بادشاہ پر احسان جتانے لگے، اپنی خدمت کو بڑا سمجھے اور خود پسندی کا مظاہرہ کرے تو کیا یہ نہیں کہا جائے گا کہ ”یہ انتہائی درجے کا بے وقوف اور پاگل آدمی ہے جسے کچھ سمجھ نہیں۔“ جب یہ بات ثابت ہو گئی تو سمجھنا چاہیے کہ ہمارا معبود تو ایسا بادشاہ ہے کہ زمین وآسمان اور ان میں موجود ہر شے اس کی پاکی بیان کرتی ہے جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ(پ۱۵،بنی اسرآئیل:۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اورکوئی چیزنہیں جواسےسراہتی (تعریف کرتی)ہوئی اس کی پاکی نہ بولے۔
اور ہمارا بادشاہ وہ معبود ہے کہ زمین وآسمان کی ہر چیز چاہتے نہ چاہتے اسے سجدہ کرتی ہے اور اس کی بارگاہ کے خادموں میں حضرت جبریل امین، حضرت میکائیل،حضرت اسرافیل،حضرت عزرائیلعَلَیْہِمُ السَّلَام، عرش اُٹھانے والے فرشتے، رحمت کے فرشتےاور وہ تمام ملائکہ مُقرَّبِین ہیں جن کی تعداد اللہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن کے سوا کوئی نہیں جانتااوران کے مقامات بڑے بلند، ان کے نُفُوس پاک اور ان کی عبادات بہت بڑی اور زیادہ ہیں،پھربھی یہ اسی بارگاہ ِعالی کے خادِم ہیں۔یونہی حضرت سیِّدُنا نوحعَلَیْہِ السَّلَام،حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام، حضرت سیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام،حضرت سیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَاماور تمام جہانوں کے سردارحضرت سیِّدُنامحمدمصطفٰے،احمدمجتبیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجوتمام کائنات کاخلاصہ ہیں اوردیگرتمام انبیاورُسُلعَلَیْہِمُ السَّلَامبھی اپنےاعلیٰ مراتِب،عظیْمُ الشان مناقِب،باوقار مقامات اور عالی شان عبادات کے باوجود اِسی بارگاہ میں جھکنے والے ہیں۔اسی طرح حضرات