پہلا اصول:
بلاشبہ بندےکافعل اسی وقت مفیداورقابلِ اعتبارہوتاہےجب اسےمحض رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر کیا جائے ورنہ اس کی مثال اس مزدور کی سی ہوگی جو سارا دن دو درہموں کی خاطر کام کرتا ہے اور اس چوکیدار کی طرح ہوگی جو صرف دو پیسوں کے لئے ساری رات جاگ کر گزار دیتا ہے۔یونہی کاریگر اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد دن رات کام کرتے ہیں اور ان کا صلہ گنتی کے چند روپے ہوتا ہے پس اگر تم اپنے عمل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف پھیر دو اور صرف ایک دن کا روزہ رکھو تو تمہارے اجر کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾(پ۲۳،الزمر:۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان:صابروں ہی کوان کاثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔
اورحدیثِ قدسی میں فرمایا:’’میں نےاپنےروزہ داربندوں کےلئےایسااجرتیارکر رکھا ہےجسےکسی آنکھ نےدیکھانہ کسی کان نےسنااورنہ کسی آدمی کےدل پراس کاکھٹکاگزرا۔‘‘(1)
دوسرا اصول:
دنیا میں کوئی ایسی شان والا بادشاہ ہو جس کی خدمت دنیا کے بادشاہ اور اُمَراکرتے ہوں، جس کی بارگاہ میں بڑے بڑے سردار دَسْت بَسْتہ کھڑے ہوں، جس کی خدمت پرزمانے کے عقلمند ودانشور فخر محسوس کرتے ہوں جس کی تعریف عُقلا اور علما کرتے ہوں، جس کےآگےآگےسردار اور معزز لوگ دوڑتے ہوں وہ بادشاہ اگر کسی بازاری یا دیہاتی کو محض اپنے فضل و کرم سے اپنے دروازے پر حاضر ہونے کی اجازت بخش دے جس کے دروازے پر بادشاہوں، بڑے لوگوں،سرداروں اورعُلَماو فُضَلا کی بھیڑ لگی ہو ۔ پھر بادشاہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الکامل لابن عدی،۸/ ۴۹۹،رقم :۲۰۶۸،یوسف بن السفر