اصل ہونے کی وجہ سے خاص طور پر ذکرکیا کیونکہ اعمال کی بڑی آفات کادروازہ یہی ہیں۔ ایک عارف بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:بندےکوعمل میں10چیزوں سےبچنا چاہیے: (۱)…نفاق(۲)…ریاکاری(۳)…لوگوں میں رہنا(۴)…احسان جتانا(۵)…تکلیف واذیت دینا (۶)…شرمندگی(۷)…خودپسندی(۸)…حسرت(۹)…سُستی اور(۱۰)…لوگوں کی ملامت کا خوف۔ ان میں سے ہر ایک کی ضدبھی ہے۔چنانچہ نفاق کی ضدعمل کا اخلاص، ریاکاری کی ضد طلب اجر میں مخلص ہونا،لوگوں میں رہنے کی ضد تنہائی وگوشہ نشینی، احسان جتانے کی ضد عمل کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپردکر دینا، اذیت کی ضد عمل کی حفاظت کرنا، ندامت کی ضد نفس کومضبوط رکھنا، خود پسندی کی ضد اللہ عَزَّ وَجَلَّکے احسان کو یاد کرنا،حسرت کی ضد نیکی و بھلائی کو غنیمت جاننا، سستی وکاہلی کی ضد توفیْقِ الٰہی کو بڑا سمجھنا اور ملامت کے خوف کی ضد اللہ عَزَّ وَجَلَّسے خوف وڈر رکھنا۔
نفاق عمل کوبربادکرتاہے،ریاکاری عمل کوقبول نہیں ہونےدیتی،احسان جتلانااور اذیت دینا صدقے کے ثواب کو برباد کر دیتے ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دونوں صدقے کے دُگنے اجر کو روک دیتے ہیں۔ تمام مشائخ کے نزدیک عمل پر شرمندگی عمل کو برباد کر دیتی ہے، خود پسندی سے اعمال کا زائد ثواب ضائع ہو جاتا ہے جبکہ حسرت، سستی اور لوگوں کی ملامت کا خوف عمل کے ثواب اور قدر وقیمت کو کم کر دیتے ہیں ۔
خود پسندی سے بچنے کے اُصُول
یہاں چندایسےاصول بیان کرناضروری ہیں جوخودپسندی سےبچنےاوراس سےدور رہنے میں تمہارے مددگار ہوں گے۔