پسندی کی ضد احسان کو یاد کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ بندہ اس بات کا اقرار واظہار کرے کہ اس عمل کی توفیق دینے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے اور اسی نے عزت وشرف بخشا ہے۔
جب خود پسندی کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے احسانات کو یاد کرنا فرض ہے جبکہ تمام عام اوقات میں ایسا کرنا مستحب ہے۔عمل میں خود پسندی کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اگر خود پسندی میں مبتلا شخص موت سے قبل توبہ کر لے تو اس کا عمل بچ جاتا ہے اور توبہ نہ کرے تو عمل ضائع ہو جاتا ہے۔
خود پسندی اور تین طرح کے لوگ:
خود پسندی کے لحاظ سے اشخاص تین قسم کے ہوتے ہیں:
(1)…وہ جوہرحال میں خودپسندی میں مبتلارہتےہیں یہ مُعْتزلہ اورقَدَرِیَہ فرقےوالے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ بندہ اپنے افعال کاخود خالق ہے، یہ لوگ افعال واعمال میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکا احسان تصوُّر ہی نہیں کرتے بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لطف وکرم اور مدد وتوفیق کا انکار کرتے ہیں۔
(2)…وہ جوہرحال میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکااحسان مانتےہیں،یہ صاحِبِ استقامت حضرات ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی عمل میں خود پسندی نہیں کرتےاورایسااس بصیرت کی وجہ سےہےجس سے انہیں عزت دی گئی اور اُس تائید ومدد کی وجہ سے ہے جس کے ساتھ انہیں خاص کیا گیا۔
(3)…وہ عام اہْلِ سنت وجماعت ہیں،یہ جب بیدار ہوتے ہیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا احسان مانتے ہیں اورجب غفلت میں ہوں تو خودپسندی میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ایسا عارضی غفلت ، فہم میں کوتاہی اور بصیرت میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
عمل ضائع کرنے والی10چیزیں:
عمل میں عیب ڈالنے والے اور بھی بہت سے اُمور ہیں مگر ریاکاری اور خودپسندی کو