Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
204 - 274
خود پسندی کا بیان
	عبادت کو خراب کرنے والی دوسری برائی خود پسندی ہے۔ اس سے بچنا تمہارے لئے دو وجہ سے ضروری ہے۔ 
	پہلی وجہ:خودپسندی تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی توفیق وتائید سے روک دے گی کیونکہ خودپسندشخص ایک خول میں قیدہوتاہےاورجب بندےسےتوفیق وتائیددورہوجائےتو بہت جلد ہلاکت میں جا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دوجہاں کے سرور، مدینے کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تین چیزیں ہلاک کرنےوالی ہیں:بخل جس کی اطاعت کی جائے، خواہِشِ نفس جس کی پیروی کی جائے اور انسان کا خود کو اچھا جاننا۔“(1)
	دوسری وجہ: خودپسندی نیک اعمال کو برباد کر دیتی ہے اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوْحُاللہ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا: اے حواریو! بہت سے چراغوں کو ہوانے گُل کر دیا اور بہت سے عبادت گزاروں کو خود پسندی نے تباہ کر دیا۔
	جب مقصود اور فائدہ عبادت ہے اورخود پسندی بندے کواس سے محروم کر دیتی ہے حتّٰی کہ انسان کو کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی اور اگر تھوڑی بہت حاصل ہوبھی تو اُسے خود پسندی خراب کر دیتی ہے یہاں تک کہ اُس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہتا تو ضروری ہے کہ انسان اس سے بچے اور محفوظ رہے اور توفیق وحفاظت اللہ عَزَّ وَجَلَّہی عطا فرماتاہے۔
خود پسندی کی تعریف:
	اپنے نیک عمل کو بڑا سمجھنا خود پسندی ہے۔اِسے یوں بھی تعبیر کیا جاتا ہے  کہ بندے کا نیک عمل کے حصول کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بجائے کسی اور شے کی طرف منسوب کرنا۔ خود
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شعب الایمان،باب فی الخوف من اللّٰہ،۱/۴۷۵،حدیث:۷۴۵۔معجم اوسط،۴/ ۱۲۹،حدیث:۵۴۴۲