Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
203 - 274
بُری اور اچھی نیت:
	حضرت سیِّدُناامام حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کہا کرتا تھا: خدا کی قسم! میں ایسی عبادت کروں گا جس سے میرا چرچا ہو۔اس غرض سے وہ سب سے پہلے مسجد میں جاتا اور سب سے آخر میں نکلتا، نماز کے وقت میں لوگ اُسے نماز پڑھتے ہی دیکھتے،وہ  ہمیشہ روزے سے رہتا اور ذکر کے حلقوں میں شرکت کرتا ۔سات مہینے تک اس کایہی معمول رہامگر وہ جب بھی کہیں سے گزرتاتو لوگ کہتے:”اللہ عَزَّ    وَجَلَّ اس ریاکار کواٹھالے۔“ایک دن اس نےخودکوملامت کرتےہوئےکہا:”میری توسب عبادت اکارت گئی اب میں صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے عبادت کروں گا ۔“چنانچہ وہ اتنی ہی عبادت کرتا رہا اوراس میں کوئی اضافہ نہیں کیا صرف اپنی نیت بدل کر نیکی کی طرف موڑ دی، اس کے بعد جب وہ لوگوں کے پاس سے گزرتا تو لوگ کہتے: اللہ عَزَّ وَجَلَّاس پر رحم فرمائے! یہ نیک کام کرتاہے۔پھرحضرت سیِّدُناحسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےیہ آیتِ مبارکہ تلاوت  فرمائی:
 اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴿۹۶﴾(پ۱۶،مریم:۹۶)
ترجمۂ کنزالایمان:بےشک وہ جوایمان لائے اور اچھے کام کئے عنقریب ان کے لیے رحمٰن محبت کر دے گا۔
	فرمایا:آیت کامعنیٰ یہ ہے کہ ربّ تعالیٰ ان سے محبت فرمائے گا اور لوگوں کے دلوں میں بھی ان کی محبت ڈال دے گا۔
	اےمیرےبھائی!اس بات سےبچ کہ ریاکاری تیرےاعمال کانفع اکارت کردے کیونکہ یہ عمل کوسب سےزیادہ فاسداورضائع کرنےوالی چیزہے۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اورتمہیں اپنی پسند اوررضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(اٰمین)