بڑے بادشاہ کی رضاو خوشنودی حاصل کرسکتا ہو مگر وہ بادشاہ کو چھوڑ کر جھاڑو لگانے والے گھٹیا شخص کی خوشنودی کا طالب بنے تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ شخص بے وقوف و احمق ہےاور درست فیصلہ کرنےسےعاری بدنصیب ہے۔ایسےسےکہاجائےگا:جب عظیم بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنا تیرے لئےممکن تھاتواسےترک کرکےایک جھاڑولگانے والے کی خوشنودی حاصل کرنے کی تجھے کیا ضرورت تھی؟پھر بادشاہ کی ناراضی کی وجہ سے وہ جھاڑو لگانے والا بھی تجھ سے ناراض ہوگیالہٰذاتوسب ہی سےمحروم رہاپس یہی حال ریاکارکاہوتاہےاورحقیر،کمزوراوربےوَقْعَت مخلوق کی خوشنودی حاصل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے حالانکہ بندہ ربّ عَزَّ وَجَلَّکی رضا حاصل کرنے پر بھی قادر ہے جو کہ تمام مخلوق کی رضا کے مقابلے میں کافی ہے۔
دل گرویدہ ہوجائیں گے:
بالفرض اگر تمہاری بصیرت اور ہمت کم ہو کہ لامحالہ مخلوق کی خوشنودی کے طلبگار ہوتو پھر بھی تمہیں اپنی نیت وکوشش صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے خالص کرنی چاہیے کیونکہ دل اور پیشانیاں اسی کے قبضے میں ہیں وہ دلوں کو تمہاری طرف پھیر دے گا، لوگوں کو تمہارا گرویدہ بنا دے گااور ان کے سینوں کو تمہاری محبت سے بھر دے گا یوں تم لوگوں کے نزیک اس مقام تک پہنچ جاؤ گے جہاں تک اپنی کوشش سے پہنچنا تمہارے لئے ممکن نہیں تھااور اگر تم نے ایسا نہ کیا بلکہ اپنے عمل سے ربّ تعالیٰ کے بجائے مخلوق کی خوشنودی طلب کی تو ربّ تعالیٰ دلوں کو تم سے پھیر دے گا، لوگوں کو تم سے متنفر کر دے گا اوروہ تم سے ناراض ہوجائیں گے۔ یوں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور مخلوق دونوں کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑے گاپس اب اس سے بڑھ کر خسارہ اور محرومی اور کیا ہو سکتی ہے۔