Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
201 - 274
فَعِنۡدَ اللہِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ؕ(پ۵، النسآء:۱۳۴)
کے پاس دنیا و آخرت دونوں کا انعام ہے۔
	اورحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اللہ  عَزَّ وَجَلَّآخرت کے عمل پر دنیا تو عطا فرماتا ہے مگر دنیا کے عمل پر آخرت عطا نہیں فرماتا۔“(1) 
	پس جب تم اپنی نیت کو خالص کر لو گے اور تمہارا ارادہ صرف آخرت کا ہوگا تو تمہیں دنیا و آخرت دونوں مل جائیں گی اور اگر تم نے دنیا کا ارادہ کیا تو آخرت سے محروم ہو جاؤ گے۔ بعض اوقات تمہاری خواہش کے مطابق دنیا ہاتھ نہیں آتی اور اگر آ بھی جائے تو باقی نہیں رہتی،یوں تم دنیا و آخرت دونوں کے خسارے سے دوچار ہو جاؤ گے لہٰذااے غافل! غور کر۔
تیسرا اصول: 
	جسے دکھانے اور اس کی خوشنودی کی خاطر تم عمل کرتے ہو اگر اسے معلوم ہو جائے کہ تم اسے دکھانے کے لئے عمل کر رہے ہو تو وہ تم پر غصہ  ہوگا، تمہیں ذلیل کرے گا اور اپنی نظروں سے گرا دے گالہٰذاعقلمند ایسے کے لئے کیونکر عمل کرے گاکہ اگر اُسے پتا چلے کہ یہ میری خوشنودی کا طلبگار ہے تو وہ اس پر غصہ ہو جائے اور اس کو کمتر جانے۔ لہٰذااے کمزور انسان!اس ذات کے لئے عمل کر، اسے اپنی کوشش کا مرکز بنا اور عمل سے اس کی رضا کی طلب کر جو تجھ سے محبت کرے، تجھے عزت دے اور تجھے عطا کرے حتّٰی کہ تجھے راضی کر کے ہر ایک سے بے نیاز کر دے۔لہٰذااگر عقل ہے تو خبردار ہو جا۔ 
چوتھا اصول:
	جس شخص کے پاس کوشش کا ایسا سرمایہ موجود ہو جس کے ذریعہ وہ دنیا میں سب سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد لابن مبارک،باب ھوان الدنیا علی الله،ص۱۹۳،حدیث:۵۴۹،”عمل“ بدلہ”نية“