Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
200 - 274
نہیں کرتا کہ میں تجھے دیکھ رہا ہوں،تیرے عمل کو جانتا ہوں، تیری تعریف کرتا ہوں اور تیرا عمل قبول کرتا ہوں بلکہ تو چاہتا ہے کہ لوگ تیرا عمل جانیں اور اس کی وجہ سے تیری تعریف کریں ، کیا یہ وفاداری ہے؟ کیا یہ عقلمندی ہے؟ کیا کوئی عاقل اِسے اپنے لئے پسند کرتاہے؟  افسوس ہے تجھ پر!کیا تو نا سمجھ ہے؟
دوسرااصول:
	جس شخص کے پاس کوئی قیمتی پتھر ہو جسے بیچ کر وہ ایک لاکھ دینار حاصل کر سکتا ہو مگر وہ اسے ایک پیسے کا بیچ دے تو کیا یہ بہت بڑی بےقوفی اور بڑا نقصان نہیں؟ اور اس کا یہ فعل اس کی پست ہمتی اورکم علمی کی دلیل نہیں؟اوریہ اس کی کمزوررائےاوربےعقلی کا ثبوت نہیں؟ ضرور اس کی کم عقلی کا ثبوت ہے۔یونہی اللہ  عَزَّ   وَجَلَّکی رضاوخوشنودی اور ثواب کے مقابلے میں بندے کا لوگوں کی جانب سے تعریف کا خواہش مند ہونا لاکھوں دراہم  بلکہ دنیا ومافیہا کے مقابلے میں ایک پیسے کے گھٹیا ہونے سے بھی زیادہ گھٹیا ہے، بلکہ اس میں کھلا نقصان ہے کہ بندہ ایسی حقیرتعریفوں کے بدلے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ سے ملنے والی نایاب عزت وکرامت سے محروم ہو جائے۔
دنیا خود پیچھے آئے گی:
	جب ریاکاری کا عمل نقصان دہ اور گھٹیا ہے تو تم صرف آخرت کا ارادہ کرو دنیاخود تمہارے پیچھے آئے گی بلکہ صرف رب عَزَّ  وَجَلَّکا ارادہ کرو وہ تمہیں دنیا وآخرت دونوں عطا فرما دے گا کیونکہ دونوں اسی کے قبضے میں ہیں جیسا کہ اس کا فرمانِ  عالی شان ہے:
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا	ترجمۂ کنز الایمان:جو دنیا کاانعام چاہے تو اللہ ہی