پڑھنے کے مقاصد پر اس لئےتنبیہ کی تاکہ تم ان میں سے کسی کے بارے میں طعن وتشنیع اور عیب جوئی نہ کرو اورتم یہ مت کہو کہ ”صبر وریاضت، گوشہ نشینی اور زہد وتقوٰی اختیار کرنے والوں کو لائق نہیں کہ وہ اس طرح دنیا کی خاطر وظیفے کریں۔“کیونکہ ان کا سب سے بڑا مقصود قناعت ہوتی ہے، وہ حرص وشہوت کی پیروی اور رزق کی تنگی کے خوف سے ایسا نہیں کرتے۔تم اکثر دیکھتے ہو کہ ایسا کرنے کے بعد دل میں قناعت پیدا ہوتی ہے اور بھوک کا کتا مر جاتا یا کمزور ہو جاتا ہے اور کھانے سے بےنیازی نصیب ہو جاتی ہے۔ جنہوں نے اس کا تجربہ کیا وہ بخوبی جانتے ہیں۔
ریاکاری سے بچانے والے اُصول
یہاں چند اصول بیان کئے جاتے ہیں تاکہ ان پر عمل کرکے تم ریاکاری سے بچ سکو ۔
پہلا اصول:
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
اَللہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیۡنَہُنَّ لِتَعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۬ۙ(پ۲۸،الطلاق:۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اللہہےجس نےسات آسمان بنائےاورانہی کےبرابرزمینیں حکم ان کے درمیان اُترتاہےتاکہ تم جان لوکہاللہسب کچھ کرسکتاہے۔
یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّگویا یہ ارشادفرما رہا ہے: زمین،آسمان اورجو کچھ ان کےدرمیان ہے میں نے بنایا ہے اور اس میں میری کاریگری کے بہترین اور عمدہ نمونے ہیں اور میں نے تیرے دیکھنے پر اکتفا کیا ہے تاکہ تو جان لے کہ میں قادر بھی ہوں اور عالِم بھی ،جبکہ تیری حالت یہ ہے کہ کوتاہیوں اور عیبوں سے بھرپور صرف دو رکعت پڑھتا ہے مگر تو اس پر اکتفا