سیکھنے سکھانے میں لگے رہیں اور یہ سب کا سب نیک ارادہ ہے دنیا کا ارادہ نہیں۔
کئی روایتوں میں عسرت وتنگی کے وقت اس سورۂ مبارکہ کا تلاوت کرنا خود حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسےثابت ہےبلکہ حضرت سیِّدُنا ابْنِ مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بوقتِ وصال جب اپنا تمام مال صدقہ کردیا تو آپ کو عتاب کیا گیا کہ آپ نے اپنی اولاد کے لئے کچھ نہیں چھوڑا تواس پرآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: میں ان کے لئے سورۂ واقعہ چھوڑے جا رہا ہوں۔
مشائخ وظیفے کیوں کرتے ہیں؟
سُنت میں ہونے کے سبب کئی بزرگانِ دین نےسورۂ واقعہ وغیرہ کا وظیفہ اختیار کیا ورنہ بِحَمْدِہٖ تَعَالٰی انہیں دنیا کی تنگی اور فَراخی کی کوئی پروا نہیں بلکہ وہ تو اَسبابِ دنیا کی تنگی اور عُسْرت کو غنیمت جانتے ہیں اور اس میں ایک دوسرے پر فوقیت لے جانے کی کوشش کرتےہیں اورمالی تنگدستی کواللہ عَزَّ وَجَلَّکااحسانِ عظیم تصورکرتےہیں اوراگر خود کو دنیاوی وُسْعَت و کشادگی میں دیکھتے ہیں تو ڈرجاتے ہیں کہ کہیں یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ڈھیل اور مصیبت نہ ہو حالانکہ اکثر لوگ دُنیوی مال و نعمت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل واحسان خیال کرتے ہیں اور بزرگانِ دین تنگی رزق کو بھلاخدا کا احسان کیوں نہ سمجھیں کہ اکثر اوقات وہ خود بھوک کی حالت میں رہتے ہیں،متقدمین صوفیا فرمایا کرتے تھے:اَلْجُوْعُ رَاْسُ مَالِنَا بھوک ہمارا اصل سرمایہ ہے۔ صوفیائے کرام کا یہ مذہب بالکل واضح ہے۔
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُناامام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں: یہی میرا اور میرے مشائخ کا طریقہ ہے اور یہی ہمارے اسلافِ کرام کی سیرت ہے۔رہا بعد والوں کا اس میں کوتاہی کرنا تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ہم نے بزرگانِ دین کے سورۂ واقعہ وغیرہ