Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
197 - 274
ریاکاری اور اس کی قسمیں:
	اخلاص کی ضد ریاکاری ہے اور ریاکاری کہتے ہیں:آخرت کے عمل کے عوض دنیا اور اس کےنفع کاارادہ کرنا۔پھرریاکاری کی دوقسمیں ہیں:(۱)…خالص ریاکاری اور (۲)…ملاوٹ والی ریاکاری۔
	خالص ریاکاری یہ ہے کہ صرف  دنیا کا نفع مقصود ہواور ملاوٹ والی ریاکاری یہ ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں کا نفع مقصود ہو۔یہ دونوں قسمیں ہی بُری وقبیح ہیں۔بندے کو چاہیے کہ عمل صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے کرے۔ 
	اگر کوئی شخص اس ارادے سے  کوئی عبادت کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس  پر دنیا فراخ فرما دے تاکہ لوگوں کے سامنے دسْتِ سوال دراز کرنے سے بچے اور عبادت کے لئے تیار رہے تو ایساارادہ ریاکاری نہیں کیونکہ ایسے امور میں جب اس طرح کی نیت ہو تو وہ نیکی بن جاتے  ہیں اور اعمال آخرت کے حکم میں داخل ہو جاتے ہیں،لیکن بہتر یہی ہے کہ قناعت اختیار کی جائے کیونکہ لوگوں کے سامنے دسْتِ سوال دراز کرنے سے بچنا کثرت مال اور جاہ و مرتبہ کی وجہ سے نہیں بلکہ قناعت اور اللہ عَزَّ وَجَلَّپر کامل بھروسے کی بناپر ہوتا ہے۔
سورۂ واقعہ کی برکات:
	کسی عارف سے پوچھا گیا: کوئی شخص  تنگدستی کے ایام میں سورۂ واقعہ پڑھتا ہے اور ارادہ یہ ہوتاہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھ سےتنگی کودورفرماکردنیاکی فراخی عطافرمائےاور بزرگانِ دین کا اس پر عمل بھی رہا ہے تو بھلا آخرت کے عمل سے دنیا کے ساز وسامان کا ارادہ کرنا کیسےدرست ہے؟انہوں نےجواب دیا:ان حضرات کی نیت یہ ہوتی ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں قناعت عطا فرمائے یا پھر اتنی روزی دے کہ وہاللہ عَزَّ   وَجَلَّکی عبادت اور عِلمِ دین