عمل کون سا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا:وہ عمل جوتم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے کرو اور دل میں یہ خواہش نہ ہو کہ اس پرکوئی تمہاری تعریف کرے۔
آپ عَلَیْہِ السَّلَامکا یہ فرمان ریاکاری ترک کرنے پر اُبھار رہا ہے اورخصوصیت کے ساتھ ریاکاری کاذکر اس لئے کیا کہ اخلاص کو تباہ کرنے میں یہ سب سے طاقتورسبب ہے۔
اِخلاص کی تعریفات:
حضرت سیِّدُناجنیدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتےہیں:اَلْاِخْلَاصُ تَصْفِیَۃُ الْاَعْمَالِ مِنَ الْمُکَدَّرَاتِ یعنی اعمال کوتمام خرابیوں سے پاک رکھنے کا نام اخلاص ہے۔
حضرت سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابنےفرمایا:اَلْاِخْلَاصُ دَوَامُ الْمُرَاقَبَۃِ وَنِسْیَانُ الْحُظُوْظِ کُلِّہَا یعنی تمام خوشیوں اور نفسانی تقاضوں کو بُھلاکر ہمہ وقت باری تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے کو اخلاص کہتے ہیں۔
حکم کے مطابق ثابت قدمی:
حضورتاجدارِرِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاخلاص کی جو وضاحت فرمائی ہے وہ بیان کردہ تمام باتوں کو شامل وجامع ہے۔چنانچہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اخلاص کے متعلق سوال کیا گیا تو ارشاد فرمایا:تَقُوْلُ رَبِّیَ اللہُ ثُمَّ تَسْتَقِیْمُ کَمَا اُمِرْتَ یعنی تو کہے میرا ربّ اللہ عَزَّ وَجَلَّہے اور پھر اس پر اس طرح ثابت قدم رہےجیسا تجھے حکم دیا گیا ہے۔(1)
یعنی اپنے نفس وخواہش کی پیروی چھوڑ دے اور صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بندگی کر اور اس کی عبادت میں ایسا ثابت قدم رہ جیسا تجھے حکم دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا ہر چیز سے اپنی نظر کو پھیر دے اور یہی حقیقی اخلاص ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اتحاف السادة المتقين،کتاب النية والاخلاص والصدق،الباب الثانى ،۱۳/۱۰۶