Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
195 - 274
دوزخ چیخ اٹھے گا:
	حضرت سیِّدُناابْنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتےہیں کہ میں نےرسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا:دوزخ اور اہل دوزخ ریاکاروں کی وجہ سےچیخ اٹھیں گے۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دوزخ کیونکر چیخے گا؟ارشادفرمایا:اس آگ کی تپش کی وجہ سےجس سےریاکاروں کوعذاب دیاجائے گا۔(1) 
	بروزِقیامت پیش آنے والی رسوائیوں میں عقلمندوں کے لئے عبرت کا سامان ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل سے ہدایت عطا فرمانے والا ہے ۔
اِخلاص اور اس کی قسمیں:
	اِخلاص دو طرح کا ہوتا ہے: (۱)…عمل میں اخلاص اور (۲)…طلب ثواب میں اخلاص۔
عمل میں اِخلاص:
	عمل میں اخلاص یہ ہے کہ عمل سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکاقرب، اس کے حکم کی تعظیم اور اس کے فرمان کی بجا آوری کا ارادہ ہو۔ اس اخلاص کا باعث درست عقیدہ ہےاور اس کی ضد نفاق ہےاوراس سے مراد یہ ہے کہ منافق فاسد عقیدہ کے سبب اپنے عمل سے غَیْرُاللہ کا قرب پانے  کا ارادہ کرے۔
طلَبِ ثواب میں اِخلاص:
	طلب ثواب میں اخلاص کامطلب”اچھےعمل سےآخرت کےنفع کاارادہ کرنا“ہے۔ حضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃ ُ وَالسَّلَامکےحواریوں نےان سے پوچھا:خالص 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…روح البیان،سورة  الانفال،تحت الآیة:۴۶ ،۳/۳۵۵