Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
194 - 274
سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہےکہ حضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے قاریِ قرآن، راہِ خدا میں جہاد کرنے والے اورمالدارکوبلایا جائےگا،اللہ عَزَّ وَجَلَّقاری سےفرمائےگا:کیامیں نےاپنےرسول پرنازل کردہ کتاب تجھے نہیں سکھائی تھی؟ وہ عرض کرے گا:ہاں سکھائی تھی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پوچھے گا:پھر تو نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا ؟ وہ عرض کرے گا:اس میں رات اور دن کی مختلف گھڑیوں میں تلاوت کیا کرتا تھا۔ ربّ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تو جھوٹا ہے ۔فرشتے بھی کہیں گے: تو نے جھوٹ کہا۔ پھر ربّ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: بلکہ تو چاہتا تھا کہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ دنیامیں کہہ لیا گیا۔ پھر مالدار کوپیش کیا جائے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے ارشاد فرمائے گا: کیا میں نے تجھے اتنی فراخی نہیں دی کہ تو کسی کا محتاج نہ رہا؟ وہ عرض کرے گا:ہاں!بالکل دی تھی۔ ربّ تعالیٰ ارشادفرمائے گا: میری تجھ پرعطا کےمقابل تونےکیاعمل کیا ؟وہ عرض کرےگا:میں اس کےذریعےصلہ رحمی اورصدقہ وخیرات کرتاتھا۔ربّ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تونے جھوٹ کہا۔فرشتے بھی کہیں گے: تو جھوٹا ہے۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرمائے گا: تیری نیت یہ تھی کہ کہا جائے: فلاں بہت سخی ہے اور وہ کہہ لیا گیا۔پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں قتل ہونےوالے کو حاضرکیا جائے گا، اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے پوچھے گا: تو نے کیا عمل کیا ؟ وہ عرض کرے گا: مجھے تیری راہ میں جہاد کا حکم ملا تو میں نے جہادکیا یہاں تک کہ قتل ہوگیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرمائےگا:توجھوٹا ہے۔فرشتےبھی کہیں گے:تو جھوٹ کہتاہے۔پھر ربّ تعالیٰ ارشادفرمائے گا: بلکہ تو چاہتا تھا کہ لوگ کہیں: فلاں بہت بہادر ہے۔ اور وہ کہہ لیا گیا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا ہاتھ اپنے گھٹنے پر مارتے ہوئے فرمایا: اے ابو ہریرہ! مخلوق میں سب سے پہلے انہی کے ذریعے دوزخ کی آگ بھڑکائی جائے گی۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الریاء والسمعة،۴/۱۶۹،حدیث:۲۳۸۹