ہوں جس نے کسی عمل میں میرے غیر کو شریک کیا تو میرا حصہ بھی اس کے لئے ہے ،میں صرف وہی عمل قبول فرماتا ہوں جو صرف میرے لئے ہو۔(1)
منقول ہے کہ قیامت کے روز جب بندہ اپنے عمل کا ثواب تلاش کرتا ہوگا تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس سے ارشاد فرمائے گا:کیا تجھے مجلسوں اور محفلوں میں وُسْعت نہیں دی گئی تھی؟ کیا تجھے دنیامیں سرداری نہیں ملی تھی؟کیاتجھےخریدوفرخت میں ہرقسم کی فراخی عطانہیں ہوئی تھی؟ کیا تجھے عزت سے نوازا نہیں گیاتھا؟
یہ اور اس طرح کی چیزیں خطرناک اور نقصان دہ ہیں ۔
دو رسوائیاں اور دو مصیبتیں:
ریاکاری کے خطرات میں سے دو رسوائیاں اور دو مصیبتیں ہیں:
پہلی رسوائی:یہ رسوائی ہم سےپوشیدہ ہے جو فرشتوں کے سامنے ہوتی ہے کہ فرشتے بڑے جوش سے بندے کے اعمال لے کر اوپر جاتے ہیں مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ”ان اعمال کو سجین میں پھینک دو کیونکہ اس نے یہ اعمال میرے لئے نہیں کئے۔“ پس اس وقت بندہ اور عمل دونوں رُسواہوتے ہیں۔
دوسری رسوائی:یہ رسوائی علانیہ ہو گی جو قیامت میں ساری مخلوق کے سامنے ہو گی جیساکہ حضورنبی اَکرم،نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:ریاکارکو قیامت کے دن چار ناموں سے پکارا جائے گا: اے کافر! اے دھوکے باز! اے فاجر! اےخسارہ اٹھانے والے! تیری کوشش رائیگاں گئی اور تیرا اجر برباد ہو گیا، آج تیرے لئے کچھ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم،کتاب الزھد،باب من اشرک فی عملہ غیر الله،ص۱۵۹۴،حدیث:۲۹۸۵بتغیر
دارقطنی،کتاب الطھارة،باب النیہ،۱/ ۷۷،حدیث:۱۳۳بتغیر