الغرض کبھی تم اس کے فضل و کرم کو دیکھو،کبھی اس کے عذاب کا تصور کرو،کبھی اس کی رحمت و مہربانی پر نظر ڈالواور کبھی اپنی زیادتیوں اور جُرموں کو دیکھو تو یہ تمام باتیں تمہارے اندر خوف و رَجاء کی کیفیت پیدا کر دیں گی اور تم درمیانی راہ پر چل پڑو گے اوربے خوفی اور نااُمیدی کی ہلاکت خیزی سے بچ جاؤ گے، ان دونوں وادیوں میں سرگرداں ہونے والوں اور ہلاک و برباد ہونے والوں کے ساتھ سرگرداں اور ہلاک ہونے سےمحفوظ رہو گےاورحد اعتدال والی شراب سے سرشار ہوگے پھر نہ تو صرف رَجاء(اُمید) کی ٹھنڈک سے ہلاک ہوگے اور نہ خوف کی آگ میں جلو گے ۔یہاں پہنچ کر تم اپنے مقصود سے ہمکنار ہوجاؤگے اور دونوں باطنی بیماریوں سے بچ جاؤ گے،پھرتم اپنے نَفْس کو طاعت و بندگی پر آمادہ پاؤ گے اور وہ غفلت اورسُستی چھوڑ کر دن رات عبادت میں مصروف ہوجائے گااورگناہوں اور ذلیل حرکتوں سے پوری طرح کنارہ کش ہوجائے گا۔چنانچہ
حضرت سیِّدُنانوف بکالیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: نوف جب جنت کو یاد کرتا ہے تو اُس کا شوق بڑھ جاتا ہے اور جب دوزخ کو یاد کرتا ہے تو اس کی نیند اُڑ جاتی ہے۔
پس جب تمہاری یہ حالت ہو جائے گی تو تم اللہ عَزَّ وَجَلَّکے برگزیدہ اور ان خاص عبادت گزاروں میں سے ہو جاؤ گے جن کا تعارف ربّ تعالیٰ نے یوں کروایا ہے:
اِنَّہُمْ کَانُوۡا یُسٰرِعُوۡنَ فِی الْخَیۡرٰتِ وَ یَدْعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕ وَکَانُوۡا لَنَا خٰشِعِیۡنَ ﴿۹۰﴾(پ۱۷،الانبیآء:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑ گڑاتے ہیں۔
اور اب تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِذن اور اس کے حُسنِ توفیق سے اس خطرناک گھاٹی کو عبور کرلیا، اب تمہیں دنیا میں بہت صفائی اور حلاوَت نصیب ہوگئی اور تم نےآخرت کے