بہت سے حیرت کا شکار ہو گئے، بہت سوں نے مختصر مدت میں اسے عبور کر لیااورکوئی 70 سال میں بھی اِسےپارنہ کرسکا۔درحقیقت سارامعاملہاللہ عَزَّ وَجَلَّکےقبضہ واختیارمیں ہے۔
علم نافع کے فوائدوثمرات:
نفع بخش علم سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف وڈر کا پھل حاصل ہوتا ہے،اللہتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا(پ۲۲،فاطر:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہسے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
وجہ یہ ہےکہ جوحقیقی معنوں میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت نہیں رکھتاوہ صحیح معنوں میں اُس سےڈرتابھی نہیں اورنہ ہی اس کی سچی تعظیم بجا لاتاہے،معلوم ہواکہ توفیْقِ الٰہی سےہر طرح کی اطاعت علم کی بدولت حاصل ہوتی ہے اور علم ہی ہر طرح کی نافرمانی سے روکتا ہے اور ان دو چیزوں کے سوا بندے کا کوئی اور مقصد بھی نہیں ۔
مروی ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنےحضرت سیِّدُناداؤدعَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی:اےداؤد! عِلمِ نافع حاصل کرو۔عرض کی:الٰہی!عِلمِ نافع کون ساہے؟ارشادفرمایا:اَنْ تَعْرِفَ جَلَالِىْ وَعَظَمَتِىْ وَكِبْرِيَائىِْ وَكَمَالَ قُدْرَتِىْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ فَاِنَّ هٰذَا الَّذِىْ يُقَرِّبُكَ اِلَىَّ یعنی عِلمِ نافع یہ ہے کہ تم میرے جلال، میری عظمت، میری کبریائی اورہرشے پرمیری کمال قدرت کی معرفت حاصل کرلوکیونکہ یہ تمہیں مجھ سےقریب کرے گا۔
بغیر علم کے عبادت خسارہ ہے:
یقین رکھو!علم میں بہت بڑا خطرہ ہے، جو اس غرض سےعلم حاصل کرے کہ اس کےذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے،امرا کا ہم نشیں بنے، اہْلِ علم کے سامنے فخر