Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
189 - 274
 کرتے اورگناہوں سےبچتےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّسےڈرتےتھےتوپھرتم کیا کہوگے؟کیاان حضرات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّسےحسن ظن نہیں تھا؟نہیں!بلکہ انہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی وسیع رحمت پرپختہ یقین اور اس کے جود وکرم  سے حسن ظن تم سے زیادہ تھا مگر وہ جانتے تھے کہ عبادت میں محنت وکوشش کےبغیریہ حسن ظن حقیقی اُمیدنہیں بلکہ آرزواوردھوکاہے۔اس نکتےسے نصیحت حاصل کرو،بزرگوں کے حالات پر غور کرو اور خوابِ غفلت سےبیدار ہو جاؤ۔ توفیق دینے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے۔
خوف  ورجا پر گفتگو کا خلاصہ:
	خلاصہ یہ ہوا کہ جب تم ایک طرفاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کو دیکھو جو اس کے غضب پر غالب اور تمام اَشیا کو گھیرے ہوئےہے اور یہ کہ تم اُس اُمتِ مرحومہ میں سے ہو جو باری تعالیٰ کو بڑی پیاری ہے پھرتم  اس کے فضْلِ عظیم اور کمالِ جود و کرم کا تصوُّر کرواور یہ کہ اُس نے تمہارے لئے جو کتاب اُتاری ہے اُس کا آغاز ’’بِسْمَ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘ سے فرمایاہے اوراِس پربھی نظررکھو کہ اس کریم رب نے کسی سفارشی اورگزشتہ خدمت کے بغیرتمہیں بے شمار ظاہری و باطنی نعمتوں اورمہربانیوں سے نوازاہے تو دوسری طرف اس کے کمالِ جَلال و عظمت ،اس کی عظیم قدرت و ہیبت نیز اس کے شدید غضب و ناراضی کا بھی تصور کرو جس کے آگے آسمان اور زمین بھی نہیں ٹھہر سکتے، پھر معاملے کی نزاکت اور خطرے کے باوجود اپنی انتہائی غفلت،کثیرگناہوں اورسنگدلی کابھی تصورکرواوریہ کہ تمام عُیُوب اورپوشیدہ باتیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکےعلم ونگاہ میں ہیں۔ پھر تم اس کے پیارے وعدے اور اُس ثواب کو ذہن میں لاؤ جس کی حقیقت تک انسانی سوچوں کو رسائی نہیں، پھر اس کی شدید وعید اوراُس دردناک عذاب کو بھی خیال میں لاؤجسےانسانی قلوب برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔