Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
188 - 274
 الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ اَتْبَعَ نَفْسَہٗ ھَوَاھَا وَ تَمَنّٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ اَلْاَمَانِیَّ یعنی عقلمند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرے اور احمق وہ ہے جو نفسانی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّسے بے جا آرزوئیں لگا بیٹھے۔(1)
	حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:کچھ لوگوں کےخدا مغفرت کی آرزوئیں ہیں حتّٰی کہ جب وہ دنیا سے جاتے ہیں تو ان کے پاس ایک نیکی بھی نہیں ہوتی، بندہ کہتا ہے: میں اپنے ربّ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھتا ہوں۔ مگر وہ جھوٹا ہوتاہے کہ اگروہ اچھا گمان رکھتا تو اچھا عمل بھی کرتا، پھر آپ نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت کی:
وَ ذٰلِکُمْ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمْ اَرْدٰىکُمْ فَاَصْبَحْتُمۡ مِّنَ الْخٰسِرِیۡنَ﴿۲۳﴾(پ۲۴،حٰمٓ السجدة:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ ہے تمہارا وہ گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا اور اس نے تمہیں ہلاک کردیاتواب رہ گئےہارے ہوؤں میں۔
ایک بزرگ کا خوف واُمید:
	ایک شخص کابیان ہے کہ میں نے عبادت گزار حضرت ابومیسرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھاکہ کثرتِ عبادت کی وجہ سےان کی پسلیاں نکلی ہوئی ہیں تواُن سےعرض کی:اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پررحم کرے!بےشکاللہ  عَزَّ وَجَلَّکی رحمت بہت وسیع ہے۔اس پروہ جلال میں آگئے اورفرمایا:”کیاتم نےمجھ میں کوئی ناامیدی والی بات دیکھی ہے؟بےشکاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔“ ان کی اس بات نے مجھے رُلا دیا۔ 
عبادت گزاروں کا حسنِ ظن:
	جب حضراتِ انبیاورُسُلعَلَیْہِمُ السَّلَاماوراولیاوابدال عبادت میں اس قدرمشقت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ابن ماجہ،کتاب الزھد،باب ذکرالموت...الخ،۴/۴۹۶،حدیث:۴۲۶۰۔الجامع الصغیر،ص۴۰۲،حدیث:۶۴۶۸