اُمیداور تمنا میں فرق:
یادرکھوکہاللہ عَزَّ وَجَلَّسےحسْنِ ظن کامطلب ہےتماللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی سےبچو، اس کی پکڑ سے ڈرو اور اس کی عبادت میں خوب کوشش کرو ورنہ یہ رجا(یعنی اُمید) نہیں صرف تمنا(یعنی آرزو) کہلائے گی، اسے یوں سمجھو کہ ایک شخص بیج ڈالے، اس کی دیکھ بھال میں کوشش اور محنت کرے پھر فصل کاٹے اور کہے :”مجھے امید ہے کہ سو بوری فصل ہوجائے گی۔“ تو یہ اُمید ہے اوردوسرا شخص وہ ہے جس نے زمین میں بیج ڈالا نہ دیکھ بھال کی بلکہ سویا رہا اور سارا سال غفلت میں گزار دیا پھر جب فصل کاٹنے کا وقت آئے کہے:” اُمید ہے مجھے سو بوری غلّہ حاصل ہو جائے گا۔“اب تم اس سے کہو گے:تُو یہ امید کیسے کر سکتا ہے یہ تو فقط آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ ٹھیک اِسی طرح جو بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں خوب کوشش کرے اور نافرمانی سے بچے پھر کہے: مجھے امید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّمیرے اس تھوڑے عمل کو قبول فرمائے گا،کمی کوتاہی کو پورا فرمائے گا،عظیم ثواب عطا کرے گااور لغزشوں کو معاف فرمادے گا، مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّسےاچھا گمان ہے۔ یہ اس کی جانب سے حقیقی اُمید ہے اور اس کے برعکس اگر وہ غافل ہو، عبادات کو چھوڑ دے، گناہوں کا ارتکاب کرے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا وناراضی اور اس کے وعدہ اور وعید کی پروا نہ کرے پھر یہ کہنا شروع کر دے کہ’’میں اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اُمید کرتا ہوں کہ وہ مجھے جہنم سے نجات اور جنت میں داخلہ عطا فرمائے گا۔“تو یہ فقط اس کی آرزو ہے جس کے تحت کچھ حاصل نہیں ہوتا مگروہ اسے حسن ظن اور اُمید کا نام دیتا ہے جوکہ خطا اور گمراہی ہے۔چنانچہ
اُمیداورآرزوکایہ فرق پیارےآقا،مدینےوالےمصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنےاس فرمانِ عالی سے یوں واضح فرمایا ہے:’’اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ