سلبِ ایمان کا خوف:
حضرت سیِّدُنایوسف بن اسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکے پاس گیا تو وہ ساری رات روتے رہے، میں نے پوچھا: آپ گناہوں کے خوف سے رو رہے ہیں؟انہوں نے ایک تنکا اٹھاکر فرمایا:گناہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سامنے اس سے بھی کم حیثیت رکھتے ہیں، میں تو اس خوف سے رو رہا ہوں کہ کہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھ سے اسلام سلب نہ فرمالے ۔
ہم احسان فرمانے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ فرمائے ، اپنے فضل وکرم سے ہم پر اپنی بڑی نعمت تمام فرمائےاور ہمیں ملَّتِ اِسلام پر موت عطا فرمائے، بے شک وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
بوقت موت اُمید غالب ہو:
اے آخرت کے طلبگار! گفتگوکاخلاصہ یہ ہے کہ تم امید اور خوف دونوں راستوں پر چلو، البتہ صحت وتندرستی کی حالت میں خوف کا غلبہ زیادہ بہتر ہے اور بیماری وکمزوری کی حالت میں اُمید کا غلبہ بہتر ہے خاص طور پر جب آخری وقت آپہنچے تو اس وقت رحمتِ الٰہی سے اُمید غالب ہونی چاہیے جیسا کہ حدیث قدسی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ”میں ان لوگوں کےپاس ہوتاہوں جن کےدل میرےخوف سےچورچورہوچکے ہیں۔“(1) پس دل کے ٹوٹا ہوا ہونے کی وجہ سے اس وقت اُمید کا غلبہ بہتر ہے کہ صحت وتندرستی کے وقت اس پر خوف غالب ہوتا ہے،اسی لئے بوقْتِ موت ایسوں سے کہا جاتا ہے:
اَ لَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحْزَنُوۡا(پ۲۴،حٰمٓ السجدة:۳۰) ترجمۂ کنز الایمان:کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حلية الاولياء،وھب بن منبہ،۴/۳۴،رقم:۴۶۶۴