ہے ؟ اسی لئےحضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا: جہنم میں ہمیشہ رہنے والوں کا تذکرہ ڈرنے والوں کے دل ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے ۔
جہنم سے نکالا جانے والا آخری شخص:
حضرت سیِّدُناامام حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے پاس ذکر ہوا کہ جوشخص سب سے آخر میں جہنم سے نکالا جائے گا اس کا نام ہناد ہو گا، اسے ایک ہزار سال تک عذاب دیاگیا ہوگا ، وہ یہ کہتا ہوا جہنم سے باہر آئے گا: یا حَنَّان، یامَنَّان!(یعنی اے مہربان اے احسان فرمانے والے)۔ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی رو پڑے اور فرمایا: کاش! میں ہناد ہوتا۔ لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو آپ نے فرمایا: تم پر افسوس! کیا وہ جہنم سے نکل نہیں جائے گا۔
کہیں معرفت چھن نہ جائے:
معاملہ کی اصل ایک بنیادی بات ہے جو کمر کو توڑ دیتی، چہروں کو زرد کر دیتی، دلوں کے ٹکڑے کرتی، جگر کوپگھلا دیتی اور آنکھوں سے آنسوجاری کرتی ہے اوروہ بنیادی بات معرفت چھن جانے کا خوف ہےپس یہی ڈرنے والوں کے ڈر کی انتہاہے اور اِسی پر رونے والوں کی آنکھیں آنسو بہاتی ہیں۔
ایک بُزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:غم تین ہیں:(۱)…عبادت قبول نہ ہونے کا غم(۲)…گناہ کی بخشش نہ ہونے کا غم اور (۳)…معرفت چھن جانے کا غم۔جبکہ مخلصین فرماتے ہیں: تمام غموں کی اصل اور حقیقت ایک ہی غم ہے کہ ’’کہیں معرفتِ الٰہی نہ چھین لی جائے‘‘باقی سارے غم تو اس کے مقابلے میں آسان ہیں کیونکہ وہ ختم ہو سکتے ہیں۔