ہٰذَا کَانَ لَکُمْ جَزَآءً وَّ کَانَ سَعْیُکُمۡ مَّشْکُوۡرًا ﴿٪۲۲﴾(پ۲۹،الدھر:۲۱، ۲۲)
ستھری شراب پلائی ان سےفرمایاجائےگایہ تمہارا صلہ ہےاور تمہاری محنت ٹھکانے لگی۔
جبکہ دوزخیوں کے قول کی حکایت یوں بیان فرمائی:
(2)…
رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْہَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾قَالَ اخْسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَ لَا تُکَلِّمُوۡنِ ﴿۱۰۸﴾(پ۱۸،المؤمنون:۱۰۷، ۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان:اےہمارےرب ہم کودوزخ سے نکال دےپھراگرہم ویسےہی کریں توہم ظالم ہیں رب فرمائے گا دُتکارے(ذلیل ہو کر) پڑے رہو اس میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔
روایتوں میں آتا ہے کہ اُس وقت وہ کتے بنادئیے جائیں گےجوجہنم میں بھونکتے پھریں گے۔
ہم دردناک عذاب سےمہربان ورحیم رب کی پناہ چاہتے ہیں ۔
بڑی مصیبت کون سی ہے؟
حضرت سیِّدُنایحییٰ بن معاذ رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں: ہم نہیں جانتے کہ جنت سے محرومی بڑی مصیبت ہے یا دوزخ میں ڈال دیا جاناکیونکہ جنت سے کسی صورت صبرنہیں اور دوزخ کو برداشت کرنے کی کسی میں ہمت نہیں،مگر بہر صورت نعمتوں کا فوت ہونا دوزخ کا عذاب برداشت کرنے سے آسان ہے۔
پھر سب سے بڑی مصیبت تو دوزخ میں ہمیشہ رہنا ہے کیونکہ اگر اس سے نکلنے کی کبھی کوئی صورت ہوتی تب تو معاملہ کچھ آسان ہوتا مگر وہ توایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، بھلا کس دل میں اسے برداشت کرنے کی طاقت ہے اور کس جان میں اسے سہنے کی سکت