اُمت محمدیہ میں سے ہیں۔فِرشتے پوچھیں گے: کیا تمہارا حساب ہوچکا؟وہ کہیں گے:نہیں۔پھر دریافت کریں گے: کیا تمہارے اَعمال کا وزن ہوچکا؟ وہ جواب دیں گے:نہیں ۔ فِرشتے پوچھیں گے: کیا تم اپنے اَعمال نامے پڑھ چکے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔پھر فِرشتے ان سے کہیں گے: واپس لوٹ جاؤ کہ یہ سارے کام پیچھے ہوں گے۔ اِس پر وہ لوگ کہیں گے: کیا تم نے ہمیں کچھ دیا تھا جس پرہمارا حساب ہوگا۔ایک روایت میں یوں ہے کہ وہ فرشتوں سے کہیں گے: دنیا میں ہم کسی شے کے مالک ہی نہیں تھے کہ عدل کرتے یا ظلم کرتے، ہم نے توبس اپنے ربّ تعالیٰ کی عبادت کی ہے حتّٰی کہ اس نے ہمیں بُلایا تو ہم آگئے۔ اتنے میں ایک ندا ا ٓئے گی: میرے بندوں نے سچ کہا،نیکی کرنے والوں پر کوئی مواخذہ نہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّبخشنے والا مہربان ہے۔(1)
کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمان نہیں سنا:
اَفَمَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ یَّاۡتِیۡۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ(پ۲۴،حٰمٓ السجدة:۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان:توکیاجوآگ میں ڈالا جائے گا وہ بھلا یا جو قیامت میں امان سے آئے گا۔
کس قدر عظیم ہو گا وہ شخص جو قیامت کی ہولناکیوں،زلزلوں اور سختیوں کو دیکھے گا مگر اس کے دل میں کسی قسم کا خوف ہوگا نہ دل پر کوئی بوجھ ہو گا۔دعا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اور تمہیں ان نیک بختوں میں شامل فرمائے اور یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکو کچھ دشوار نہیں۔
جنت اور دوزخ کا حال
جنت اور دوزخ کے متعلق قرآن مجیدفرقانِ حمید کی ان دو آیتوں میں غور کرو:
(1)…
وَ سَقٰىہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوۡرًا ﴿۲۱﴾ اِنَّ ترجمۂ کنز الایمان:اور انھیں ان کے رب نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بریقة محمودية،الثامن والعشرون حب المال للحرام،۴/۵۲