قیامت کا حال
رحمٰنعَزَّ وَجَلَّکے مہمان:
جہاں تک قیامت کا تعلق ہے تو اس بارے میں اس فرمانِ باری تعالیٰ میں غور کرو:
یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ﴿ۙ۸۵﴾ وَّ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا ﴿ۘ۸۶﴾ (پ۱۶،مریم:۸۵، ۸۶)
ترجمۂ کنزالایمان:جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمٰن کی طرف لے جائیں گے مہمان بنا کر اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے۔
کوئی شخص قبر سے اُٹھے گا تو اُس کی قبر پر بُراق کھڑا ہوگا اور تاج اورحُلّے موجود ہوں گے پس وہ تاج اور اعلیٰ لباس زیب تن کرے گا اور بُراق پر سوار ہوکر نعمتوں سے بھرپور جنتوں کی طرف روانہ ہوگا اور اس کے اِعزاز وَ اِکرام کی خاطر اس کو پیدل نہیں چلنے دیا جائے گا جبکہ کوئی شخص اپنی قبر سے نکلے گا تو عذاب کے فرشتے اور آگ کی بیڑیاں قبر پر موجود ہوں گے اور بدبخت کو دوزخ کی طرف پیدل بھی چلنے نہیں دیں گے بلکہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا۔ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی وغضب سے اس کی پناہ مانگتے ہیں۔(اٰمین)
بے حساب بخشے جائیں گے:
مروی ہےکہ غیبوں سےخبردارنبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جب قیامت کا دن ہو گا کچھ لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے تواُن کے لئے سبز پروں والی سواریاں ہوں گی۔ وہ ان پر سوار ہوں گے تو وہ انہیں اُڑا کر میدانِ محشر میں لے جائیں گی حتّٰی کہ جب وہ جنت کی دیواروں تک پہنچیں گے تو فرشتے انہیں دیکھ کر ایک دوسرے سے پوچھیں گے:یہ کون ہیں؟جواب ملےگا:ہم نہیں جانتے،شایدیہ لوگ اُمَّتِ محمدیہ میں سے ہوں۔ پھر کچھ فرشتے ان کے پاس جا کر پوچھیں گے: تم کون ہو اور کس اُمَّت سے ہو؟ وہ جواب دیں گے:ہم