فرمایا؟ اس نے جواب میں یہ شعر پڑھا:
تَوَلَّی زَمَانٌ لَّعِبْنَا بِہٖ وَ ھٰذَا زَمَانٌ بِنَا یَلْعَبُ
ترجمہ: وہ زمانہ بِیت گیا جس سے ہم کھیلتے تھے، اب یہ وہ زمانہ ہے جو ہم سے کھیل رہا ہے۔
شہید جنازہ پڑھنے آیا:
نیز اس بارے میں دو مزید آدمیوں کا حال بھی ذہن میں رکھنے کے قابل ہے، ایک تو یہ کہ ایک بزرگ فرماتے ہیں:میرا ایک لڑکا شہید ہوگیامگر وہ مجھے کبھی خواب میں نظر نہ آیا، جس رات امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کا وصال ہوا اس رات وہ مجھے خواب میں نظرآیا تو میں نے پوچھا: بیٹا! کیا تم مردے نہیں ہو؟ تو اس نے جواب دیا:نہیں بلکہ مجھے شہادت نصیب ہوئی ہے اور میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں زندہ ہوں اور مجھے رزق دیا جاتا ہے۔میں نے کہا:آج کیسے آنا ہوا؟اس نے کہا:آج آسمان والوں میں یہ ندا کی گئی:”سنو! آج ہرنبی، صِدِّیق اور شہید حضرت عمر بن عبد العزیز کے جنازہ میں شرکت کرے۔“ لہٰذا میں بھی ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لئےآیا تھا پھر نمازسے فارغ ہو کر آپ کو سلام کرنے چلاآیا۔
جہنم نے بوڑھا کردیا:
دوسرا واقعہ یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا ہشام بن حسان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: میرا ایک چھوٹا بچہ فوت ہو گیا، میں نے اسے خواب میں دیکھا تو وہ بوڑھا تھا، میں نے پوچھا: بیٹا! یہ بڑھاپا کیسا؟ اس نے کہا: جب فلاں شخص ہمارے پاس آیا تو جہنم نے اسے دیکھ کر ایک سانس لی جس سے ہم سب بوڑھے ہو گئے۔
ہم جہنم کے دردناک عذاب سے عظمت والے ربّ کی پناہ مانگتے ہیں۔(اٰمین)