Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
180 - 274
اور دوسرے سے بیچتا ہے۔میں نے وہ دونوں پیمانے منگوائے اور ایک دوسرے پر مار کر توڑ دیئے، پھر میں نے اس سے دریافت کیا اب کیسا حال ہے؟ اس نے کہا: مجھ پر معاملہ اور زیادہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔
قبر اور اس کے بعد کا حال دیدارِ الٰہی کی سعادت:
	قبراور بعد کے حال کے متعلق بھی دو لوگوں کا حال ذکر کرتا ہوں ۔ایک تو یہ کہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا: ابو عبداللہ! آپ کا کیا حال ہے؟ انہوں نے مجھ سے منہ پھیر تے ہوئے کہا: یہ کنیت کے ساتھ بلانے کا وقت نہیں ہے۔ میں نے پھر پوچھا: اے سفیان! آپ کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے جواب میں یہ اشعار پڑھے:
نَظَرْتُ اِلٰی رَبِّیْ عِیَانًا فَقَالَ لِیْ		ھَنِیْئًا رِضَائِیْ عَنْکَ یَابْنَ سَعِیْد
لَقَدْ کُنْتَ قَوَّامًا اِذَا اللَّیْلُ قَدْ دَجَا		بِعَبْرَۃٍ مُّشْتَاقٍ وَّ قَلْبٍ عَمِیْد
فَدُوْنَکَ فَاخْتَرْ اَیَّ قَصْرٍ تُرِیْدُہٗ		وَ زُرْنِیْ فَاِنِّیْ عَنْکَ غَیْرُ بَعِیْد
	ترجمہ:میں نے اپنے پرورد گار کوبا لکل سامنے دیکھا،اس نے مجھے فرمایا:اے ابن سعید!تجھے میری رضا مبارَک ہو۔ تو تاریک راتوں میں نگاہِ شوق اور عشق بھرے دل کے ساتھ قیام کرتا تھا، اب مَحَلَّات تیرے سامنے ہیں تو جو چاہے لےلے اور میری زیارت سے لُطف اندوز ہوکہ میں تجھ سےدور نہیں ۔
زمانے کا کھیل:
	دوسرا واقعہ اس شخص کا ہے جسے کسی نے خواب میں دیکھا کہ اس کا رنگ بدلا ہوا ہے اور دونوں ہاتھ گردن میں بندھے ہیں،اس سے پوچھا گیا: اللہ  عَزَّ وَجَلَّنے تیرے ساتھ کیا معاملہ